تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 187 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 187

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۸۴ تعریف نبوت میں تبدیلی مقام نبوت سے متعلق ایک زبردست علمی انکشاف اشتہار ایک غلطی کا ازالہ اور تعریف نبوت میں تبدیلی کا پہلا تحریری اعلان ۱۹۰۰ء کے آخر اور ۱۹۰۱ء کے اوائل میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ انکشاف ہوا کہ مقام نبوت صرف کثرت مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہونے کا نام ہے اور نئی شریعت کا لانا پہلی شریعت کا ترمیم کرنا یا براہ راست منصب نبوت و رسالت کا حصول نہی کی تعریف میں داخل نہیں ہے جیسا کہ عامتہ المسلمین کی عام مروج اصطلاح سے خیال کیا جاتا ہے۔اس انکشاف سے آپ پر صاف کھل گیا کہ آپ کے الہامات میں آپ کو جو نبی قرار دیا گیا ہے وہ مجاز یا استعارہ کے رنگ میں محض محد ثیت نہیں بلکہ آپ اصلی اور صحیح معنوں کی رو سے آنحضرت کی غلامی کے طفیل فی الواقع نبی اور رسول ہیں اور نفس نبوت کے لحاظ سے آپ میں اور دوسرے انبیاء میں کچھ فرتی نہیں۔فرق صرف حصول نبوت کے ذریعہ میں ہے نہ کہ نبوت میں۔پہلے نبی براہ راست مقام نبوت پانے کی وجہ سے مستقل انبیاء کہلاتے ہیں اور آپ آنحضرت ا کی پیروی اور افاضہ روحانیہ کے واسطہ سے مقام نبوت تک پہنچے ہیں اور امتی نبی کہلاتے ہیں تا آنحضرت کی قوت قدسیہ اور فیضان کا کمال ثابت ہو۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوئی میں نبی کا نام سن کر دھو کہ کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعوی کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت کا افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے مقام نبوت تک پہنچایا اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے