تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 82 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 82

69 جدی بھائیوں کی طرف سے الدار کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار کئی پیرایوں میں تقویٰ و طہارت اختیار کرنے اور برائیوں سے بچنے اور صدق اور راستی کے قبول کرنے کی نسبت بیان فرما ئیں۔غرض یہاں بیٹھے ہوئے ابھی چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ مقدمہ پیش ہو گیا۔چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ایل۔ایل۔بی پلیڈ ر مقدمہ کے لئے اندر پہنچے۔اله حضرت اقدس کی شہادت اس کے بعد مردمی علیہ کے دو گواہ پیش ہوئے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گواہی ہوئی جس میں حضور نے مرزا امام الدین صاحب کی رقابت و عداوت کا سبب بیان کرنے کے بعد فرمایا۔اس دیوار کے بننے سے مجھے بڑی ذاتی تکلیف ہوئی ہے۔ذاتی تکلیف سے یہ مراد ہے کہ مالی تکلیف ہوئی ہے کہ کنواں بنانا پڑا اور چھا پہ خانہ کا بہت بڑا حرج ہو ا مسافر اور میرے ملاقاتی جو بڑے معزز اور شریف آدمی ہوتے ہیں وہ ملاقات کے لئے ترستے رہتے ہیں۔میں اوپر ہو تا ہوں اور وہ نیچے۔میں الفاظ میں نہیں بیان کر سکتا کہ مجھے اس سے کس قدر درد پہنچتا ہے۔آٹھ نو ماہ ہوئے ایک شریف عرب مجھے ملنے آیا اس کو چوٹیں لگیں۔کیونکہ جو راستہ چکر دار ہے وہ بہت خراب ہے۔پتھریلا ہے برسات میں خصوصاً چلنے کے قابل نہیں ہو تا۔۔۔اس دیوار (کے) بننے سے پیشتر مهمان دو نو وقت میرے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور نمازیں پڑھتے تھے اور تعلیمی باتیں سنتے تھے جن کے لئے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں۔اب اگر او پر آتے ہیں تو بڑی تکلیف سے چکر کھا کر آتے ہیں اور صبح اور عشاء کی نماز میں ضعیف اور کمزور آدمی میرے ساتھ شریک نہیں ہو سکتے۔ان مہمانوں کی غرض جو میرے پاس آتے ہیں دین سیکھنے کی ہوتی ہے لیکن جب اس دیوار کی وجہ سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے تو مجھے ان تمام تکالیف کا صدمہ ہوتا ہے۔جو کام میں کرنا چاہتا ہوں اس میں دقت پیدا ہوتی ہے۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں جن میں میں ان تکالیف کو بیان کر سکوں۔مہمان کہیں ہوتے ہیں اور میں کہیں۔وہ اس بات سے محروم رہتے ہیں جس کے لئے آتے ہیں۔اور میں اپنا کام نہیں کر سکتا جس کے لئے بھیجا گیا ہوں۔" حضرت اقدس کے بیان میں وہ زور اور جوش تھا کہ ہم الفاظ میں اس کو ادا نہیں کر سکتے۔الفاظ کے ادا سے ایک خاص قسم کا رعب اور ہیبت ٹپکتی تھی۔۔۔۔اس انداز کو ہم بیان نہیں کر سکتے اور اس اثر اور جوش کی تصویر نہیں دکھا سکتے جو اس وقت ظاہر ہو رہا تھا۔۔۔۔غرض اس طرح پر حضرت اقدس کا بیان ختم ہوا۔" اور حضرت اقدس علیہ السلام ایک مجمع کثیر کے ساتھ عدالت کے کمرہ سے باہر آئے۔آپ اس قدر خوش تھے جس کی کوئی حدود پایاں نہیں۔۔۔۔اس کے بعد ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے پڑھی گئی۔۔۔پھر فرود گاہ پر واپس آئے۔شام کو حسب معمول سیر کو تشریف لئے گئے۔راستہ میں ڈاکٹر