تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 563 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 563

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ APA حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری سفر نا ہو رہ طور پر اپنا کام پورا کر دیا ہے اور دنیا میں شاید ہی کوئی کہہ سکے کہ اسے ہماری تبلیغ نہیں ہوئی یا ہمارا دعویٰ نہیں پہنچا۔" A جماعت کو نصائح اور توحید کا وعظ قیام لاہور کے دوران حضور نے جماعت کو اپنی تربیت و اصلاح کی طرف بھی بار بار توجہ دلائی۔چنانچہ ۴/ مئی کو ارشاد فرمایا کہ دوسرے مسلمانوں کی طرح تم بھی مسلمان کہلاتے ہو مگر اللہ صرف دعووں سے خوش نہیں ہو تا جب تک اس کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو۔بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اند ریچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کر کے دکھاوے۔اسی طرح 19 مئی کو توحید کے مسئلہ پر ایک لطیف وعظ میں فرمایا ” مسلمانوں کو توحید کا فخر ہے۔توحید سے مراد صرف زبانی توحید کا اقرار نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ عملی رنگ میں حقیقتاً اپنے کاروبار میں اس امر کا ثبوت دے دو کہ واقعی تم موحد ہو اور توحید تمہارا شیوہ ہے۔" پروفیسر کلیمنٹ ریگ کی ملاقات اور اس کا اثر پہلی ملاقات انگلستان کے ایک ماہر بیت دان پروفیسر ریگ ان دنوں ہندوستان کی سیاحت کر رہے تھے۔مفتی محمد صادق صاحب نے ان سے ملاقات کی اور حضرت اقدس کے د عادی اور دلائل وغیرہ ان کو سنائے جس پر پروفیسر صاحب نے حضرت اقدس سے ملاقات کا اشتیاق ظاہر کیا۔چنانچہ ۱۲ / مئی ۱۹۰۸ء کو قبل ظہران کو شرف باریابی نصیب ہوا۔پروفیسر صاحب نے دوران ملاقات میں حضور سے کئی سوالات کئے۔مثلاً جب خدا کی مخلوق بے شمار اور غیر محدود ہے تو اس کے فضل کو کیوں صرف اس حصہ زمین یا کسی مذہب وملت میں محدود رکھا جائے؟ گناہ کیا چیز ہے ؟ شیطان کسے کہتے ہیں؟ آئندہ زندگی کس طرح سے ہوگی اوروہاں کیا کیا حالات ہوں گے ؟ مسٹر ریگ کے ساتھ ایک لیڈی بھی تھی جس نے یہ سوال کیا کہ کیا مردوں سے رابطہ قائم کر کے ان کے صحیح حالات دریافت کئے جاسکتے ہیں ؟ حضرت اقدس مسیح موعود نے ان تمام سوالات کے نہایت لطیف، مسکت اور جامع جوابات دیئے جنہیں سن کر مسٹرریگ از حد متاثر ہوئے اور حضور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ " مجھے اپنے سوالات کا جواب کافی اور تسلی بخش ملنے سے بہت خوشی ہوئی اور مجھے ہر طرح سے کامل