تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 84
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ سجد کی بھیانہ رو اور مقدمه دیوار خلاصہ ہوتا ہے جب وہ دیکھا گیا تو اس میں وہ بات نکلی جس کے نکلنے کی توقع نہ تھی یعنی حاکم کا تصدیق شدہ یہ حکم نکلا کہ اس زمین پر قابض نہ صرف امام دین ہے بلکہ مرزا غلام مرتضی یعنی میرے والد صاحب بھی قابض ہیں۔تب یہ دیکھنے سے میرے وکیل نے سمجھ لیا کہ ہمارا مقدمہ فتح ہو گیا۔حاکم کے پاس یہ بیان کیا گیا اس نے فی الفور وہ انڈکس طلب کیا اور چونکہ دیکھتے ہی اس پر حقیقت کھل گئی اس لئے بلا توقف امام دین پر ڈگری زمین کی بمعہ خرچہ کردی۔" قادیان میں فیصلہ کی اطلاع ۱۲ اگست ۴ بجے شام کو مقدسہ کی فتحیابی کی خبر قادیان میں پہنچی تو جماعت میں خوشی کی مہرہ ڑ گئی۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب، مولوی محمد علی صاحب مرزا خدا بخش صاحب ، حکیم فضل دین صاحب، قاضی ضیاء الدین صاحب، پیر سراج الحق صاحب اور بھائی عبد الرحیم صاحب مسجد مبارک میں بیٹھے تھے کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب نے دوڑتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ دیوار کو دہی بھنگی ڈھا رہا ہے جو اس شر اور فتنہ کے دن سے اسے کھڑا کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوشی کا اس دن کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔گویا ایک سال آٹھ ماہ کا رمضان تھا جس کی آج عید ہوئی۔" عدالتی فیصلہ میں مرزا امام دین صاحب پر مقدمہ کا حضور کی طرف سے خرچہ کی معافی خرچہ ڈالا گیا تھا اس لئے حضور کے وکیل نے (حضور کی اطلاع اور مشورہ کے بغیر خرچہ کی ڈگری لے کر اس کا اجراء کروا دیا۔حضرت اقدس اس وقت گورداسپور میں فروکش تھے۔اور آپ کی عدم موجودگی میں ہی سرکاری آدمی قادیان آیا۔مرزا امام دین صاحب تو اس دوران میں فوت ہو چکے تھے اور مرزا نظام دین صاحب ان کے بھائی زندہ تھے مگر ان کی حالت ان مظالم کی پاداش میں اب اس درجہ ابتر ہو چکی تھی کہ وہ مطلوبہ رقم مبلغ ایک سو چوالیس روپیہ پانچ آنہ سات پائی بھی ادا کرنے سے قاصر تھے اور قرقی کے سوا اور کوئی صورت نہیں تھی اس لئے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بذریعہ خط درخواست کی کہ انہیں یہ رقم معاف کر دی جائے۔ادھر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی روایت کے مطابق) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو عشاء کے وقت اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام یا خواب اطلاع دی کہ یہ بار ان پر بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ سے مخالف رشتہ دار بہت تکلیف میں ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے رات نیند نہیں آئے گی۔اس وقت آدمی بھیجا جائے جو کہہ دے کہ ہم نے یہ خرچ تمہیں معاف کر دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی حضور نے معذرت بھی کی کہ " میری لا علمی میں یہ