تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 77
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۷۴ جدی بھائیوں کی طرف سے الدار کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار أنَا مَعَكَ - قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَرَ ، فِي غَيْهِ يَتَعَطَى إِنَّهُ مَعَكَ وَإِنَّهُ يَعْلَمُ السّرَ وَ مَا اَخْفى - لا اله الا هُوَ يَعْلَمُ كُلِّ شَيْي وَيَرَى إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ يُحْسِنُونَ الْحُسْنَى إِنَّا اَرْسَلْنَا أَحْمَدَ إِلى قَوْمِهِ فَاَعْرَضُوا وَقَالُوا كَذَّابٌ اَشِرَ - وَجَعَلُوْا يَشْهَدُونَ عَلَيْهِ وَ يَسِيلُوْنَ الَيْهِ كَمَاء مُنْهَمِرٍ إِنَّ حِتَّى قَرِيبٌ إِنَّهُ قَرِيبٌ مُّسْتَتِر - - یعنی چکی پھرے گی اور قضا و قدر نازل ہوگی یعنی مقدمہ کی صورت بدل جائے گی جیسا کہ چکی جب گردش کرتی ہے تو وہ حصہ چکی کا جو سامنے ہوتا ہے بباعث گردش کے پردہ میں آجاتا ہے اور وہ حصہ جو پردہ میں ہوتا ہے وہ سامنے آجاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ مقدمہ کی موجودہ حالت میں جو صورت مقدمہ حاکم کی نظر کے سامنے ہے جو ہمارے لئے مضر اور نقصان رساں ہے قائم نہیں رہے گی اور ایک دوسری صورت پیدا ہو جائے گی جو ہمارے لئے مفید ہے۔اور جیسا کہ چکی کو گردش دینے سے جو منہ کے سامنے حصہ چکی کا ہوتا ہے وہ پیچھے کو چلا جاتا ہے۔اور جو پیچھے حصہ ہوتا ہے وہ منہ کے سامنے آجاتا ہے۔اسی طرح جو مخفی اور در پر دہ باتیں ہیں وہ منہ کے سامنے آجائیں گی اور ظاہر ہو جائیں گی اور جو ظاہر ہیں وہ نا قابل التفات اور مخفی ہو جائیں گی اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ خدا کا فضل ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے یہ ضرور آئے گا اور کسی کی مجال نہیں جو اس کو رد کر سکے یعنی آسمان پر یہ فیصلہ شدہ امر ہے کہ یہ صورت موجودہ مقدمہ کی جس سے پاس اور نامیدی ٹپکتی ہے ایک دفعہ اٹھا دی جائے گی اور ایک اور صورت ظاہر ہو جائے گی جو ہماری کامیابی کے لئے مفید ہے جس کا ہنوز کسی کو علم نہیں۔اور پھر فرمایا کہ کہہ مجھے میرے خدا کی قسم ہے کہ یہی بات سچ ہے اس امر میں نہ کچھ فرق آئے گا اور نہ یہ امر پوشیدہ رہے گا اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو تجھے تعجب میں ڈالے گی۔یہ اس خدا کی وحی ہے جو بلند آسمانوں کا خدا ہے۔میرا رب اس صراط مستقیم کو نہیں چھوڑتا جو اپنے برگزیدہ بندوں سے عادت رکھتا ہے۔اور وہ اپنے ان بندوں کو بھولتا نہیں جو مدد کرنے کے لائق ہیں سو تمہیں اس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہو گی۔مگر اس فیصلہ میں اس وقت تک تاخیر ہے جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں تو کہہ ہر ایک امر میرے خدا کے اختیار میں ہے۔پھر اس مخالف کو اس کی گمراہی اور ناز اور تکبر میں چھوڑ دے۔پھر فرمایا کہ وہ قادر تیرے ساتھ ہے۔اس کو پوشیدہ باتوں کا علم ہے بلکہ جو نہایت پوشیدہ باتیں ہیں جو انسان کے فہم سے بھی برتر ہیں وہ بھی اس کو معلوم ہیں۔اور پھر فرمایا کہ وہی خدا حقیقی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔انسان کو نہیں چاہیے کہ کسی دوسرے پر توکل کرے کہ گویادہ اس کا معبود ہے۔ایک خدا ہی ہے جو یہ صفت اپنے اندر رکھتا ہے۔وہی ہے جس کو ہر ایک چیز کا علم ہے اور جو ہر ایک چیز کو دیکھ رہا ہے اور وہ خدا ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور اس سے