تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 62
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۹ " حقیقتہ المہدی " کی تصنیف و اشاعت ایک دفعہ آپ کی زندگی میں کسی نے کارڈ کی پشت پر آپ کی فوٹو شائع کر دی۔آپ کو پتہ چلا تو یہ کارڈ آپ نے تلف کرا دیئے اور جماعت کو ہمیشہ کے لئے یہ نصیحت فرمائی کہ میں ایسی اشاعت کا سخت مخالف ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص ہماری جماعت میں سے ایسے کام کا مرتکب ہو۔ایک صحیح اور مفید غرض کے لئے کام کرنا اور امر ہے اور ہندوؤں کی طرح جو اپنے بزرگوں کی تصویر میں جابجا در و دیوار پر نصب کرتے ہیں۔یہ اور بات ہے۔ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے لغو کام منجر شرک ہو جاتے ہیں بڑی بڑی خرابیاں ان سے پیدا ہوتی ہیں۔جیسا کہ ہندوؤں اور عیسائیوں میں پیدا ہو گئیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ جو شخص میری نصائح کو عظمت اور عزت کی نظر سے دیکھتا ہے اور میرا سچا پیرو ہے وہ اس حکم کے بعد ایسے کاموں سے دستکش رہے گا۔ورنہ وہ میری ہدایتوں کے برخلاف اپنے تئیں چلاتا اور شریعت کی راہ میں گستاخی سے قدم رکھتا ہے۔" منشی الہی بخش صاحب کا فتنہ اور تریاق القلوب" کی تصنیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پچھلے سال ۱۸۹۸ء میں منشی الہی بخش صاحب کے اوہام اور وساوس کے ازالہ کے لئے " ضرورۃ الامام " تصنیف فرمائی جس پر وہ اپنی روش پر نظر ثانی کرنے کی بجائے اور بھی متشدد ہو گئے اور اپنے چند ساتھیوں مثلاً منشی عبد الحق صاحب پیشنر ا کو مٹنٹ خان بہادر سید فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر اور حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار نہر کے سمیت ایک بڑے فتنہ کی طرح ڈالی۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو رو خط بھیجے جن میں ان کو خدا کی قسم دے کر لکھا کہ وہ مسلمانوں کی حالت پر رحم کرتے ہوئے اپنے الہامات شائع کر کے بھجوا د میں تاخد اتعالیٰ خود ہی بچے اور جھوٹے کا فیصلہ فرما دے۔دوسرا خط حضور نے ۱۶ / جون ۱۸۹۹ء کو بھیجا اور اس کے آخر میں لکھا پھر اخیر میں خدا تعالٰی کی قسم آپ کو دیتا ہوں کہ آپ وہ تمام مخالفانہ پیشگوئیاں جو میری نسبت آپ کے دل میں ہوں لکھ کر چھاپ دیں۔اب دس دن سے زیادہ میں آپ کو مہلت نہیں دیتا۔جون، مہینے کی ۳۰/ تاریخ تک آپ کا اشتہار مخالفانہ پیشگوئیوں کا میرے پاس آجانا چاہیے ورنہ یہی کاغذ چھاپ دیا جائے گا اور پھر آئندہ آپ کو کبھی مخاطب کرنا بھی بے فائدہ ہو گا۔" اس خط کے جواب میں انہوں نے جولائی ۱۸۹۹ء کے پہلے ہفتہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خط لکھا جس میں حضور اور سلسلہ احمدیہ کے خلاف دو ایک پیشگوئیاں بھی درج تھیں۔منشی الهی بخش صاحب چونکہ اب اپنے خط میں حضرت کے خلاف الہام بھجوا کر میدان مقابلہ میں اتر آئے اور افہام و تقسیم کی ہر صورت اپنے ہاتھوں ختم کر چکے تھے اس لئے حضرت مسیح موعود