تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 63 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 63

قیقہ المدی " کی تصنیف و اشاعت تاریخ احمدیت جلد ۲ " 4۔re ۲۵ علیہ السلام کی دینی غیرت نے نہ چاہا کہ دنیا کے سامنے حق و باطل مشتبہ ہو کے رہ جائیں۔اس لئے حضور نے جولائی کے آخر میں تریاق القلوب" کے نام سے ایک عظیم الشان تصنیف کے لئے قلم اٹھایا جس میں یہ آسان طریق فیصلہ پیش فرمایا کہ " ایک مجمع مقرر کر کے کوئی ایسا شخص جو میرے دعوئی مسیحیت کو نہیں مانتا اور اپنے تئیں علم اور صاحب الہام جانتا ہے مجھے مقام بٹالہ یا امر تسریا لاہور میں طلب کرے اور ہم دونوں جناب الہی میں دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جناب الہی میں سچا ہے ایک سال میں کوئی عظیم الشان نشان جو انسانی طاقتوں سے بالا تر اور معمولی انسان کے دسترس سے بلند تر ہو اس سے ظہور میں آوے۔ایسا نشان کہ جو اپنی شوکت اور طاقت اور چمک میں عام انسانوں اور مختلف طبائع پر اثر ڈالنے والا ہو خواہ وہ پیشگوئی ہو یا اور کسی قسم کا اعجاز ہو جو انبیاء کے معجزات سے مشابہ ہو۔پھر اس دعا کے بعد ایسا شخص جس کی کوئی خارق عادت پیشگوئی یا اور کوئی عظیم الشان نشان ایک برس کے اندر ظہور میں آجائے اور اس عظمت کے ساتھ ظہور میں آئے جو اس مرتبہ کا نشان حریف مقابل سے ظہور میں نہ آسکے وہ شخص سچا سمجھا جائے گا۔" ایسی مجلس کے انعقاد کے لئے حضور نے یہ شرط بھی قرار دی که دس روز قبل بذریعہ اشتهار (جس پر ہیں معزز اور نامور علماء اور رؤسا کے دستخط ثبت ہوں) یہ اعلان شائع کیا جائے کہ ان مقامات میں سے فلاں تاریخ اور فلاں وقت ایسا جلسہ قرار پایا ہے۔یہ اصل رسالہ جو ۲۳ صفحات پر مشتمل تھا کیم اگست تک مکمل ہو کر انہی دنوں چھپ بھی گیا تھا لیکن حضور کو خیال آیا کہ " ملہم لاہوری پر اتمام حجت کے لئے لیکھرام اور دوسرے افراد کے متعلق پیشگوئیوں کا مفصل تذکرہ کیا جائے جو نہات آب و تاب سے پوری ہو چکی ہیں۔چنانچہ حضور نے اس کے ساتھ دو ضمیموں کا اضافہ فرمایا۔۔۔پہلے ضمیمہ میں حضور نے لیکھرام کے قتل کے نشان کے قریبا چار ہزار مصدقین میں سے ۲۷۹ اشخاص کی تصدیقی شہادتیں شامل کیں اور دوسرے ضمیمہ میں اس کے علاوہ دوسری متعدد پیشگوئیوں پر مفصل روشنی ڈالی۔دسمبر ۱۸۹۹ء تک حضرت اقدس نے پچھتر پیشگوئیوں کا بیان لکھا جو ۱۵۸ صفحات پر م کتاب تریاق القلوب جنوری ۱۹۰۰ ء تک ایک صفحہ کے مسودہ کے سوا چھپ چکی تھی مگر اس دوران میں وند تعیین کی تجویز کی وجہ سے حضور کی توجہ "لجہ النور " کی تصنیف کی طرف مبذول ہو گئی اور تریاق القلوب کی اشاعت رک گئی۔ازاں بعد ۱۹۰۲ء میں جب کہ کتب خانہ کا چارج حکیم فضل الدین صاحب کے ہاتھ میں تھا۔آپ نے حضرت مولوی نور الدین صاحب سے عرض کی کہ بعض کتب بالکل تیار ہیں لیکن اس وقت تک شائع نہیں ہو ئیں۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کریں کہ ان کی اشاعت کی اجازت فرما دیں چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے حضرت اقدس سے ذکر ممثل تھا۔