تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 57
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۴ تصنیف و اشاعت ماموریت کا اٹھارھواں سال حقیقته المهدی" کی تصنیف و اشاعت (۱۸۹۹ء) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس سال کی پہلی تصنیف "حقیقتہ المہدی " تھی جو ۲۱ / فروری ۱۸۹۹ء کو شائع ہوئی۔یہ کتاب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے الزام بغاوت کی تردید میں لکھی گئی تھی۔مولوی صاحب ابتداء ہی سے انگریزوں کے پاس شکایات کرتے آرہے تھے کہ یہ شخص سوڈانی مہدی سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔اور وہ فخریہ کہا کرتے تھے کہ میرے پاس وائسرے لیفٹیننٹ گورنروں کمانڈر انچیف وغیرہ اعلیٰ عہدیداران حکومت کی چھٹیاں موجود ہیں مگر مرزا صاحب کسی ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر ہی کی کوئی چھٹی پیش کریں جس سے ان کا کوئی ذاتی اعزاز ثابت ہو۔دہ امیر کابل کے پاس بھی پہنچے۔پھر اس کی طرف سے واپس آکر دھمکیاں دیں کہ وہاں چلو تو زندہ نہ آؤ گے۔اب جو انہوں نے حضور کے خلاف فوجداری مقدمہ کھڑا کر کے اپنی کوششیں انتہاء تک پہنچا دیں تو حضور نے اس کتاب کے ذریعہ سے انکی مخالفانہ کارروائیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کیا اور حکومت کے سامنے خیر خواہ اور باغی کی پہچان کے لئے ایک کھلا کھلا طریق آزمائش رکھا اور وہ یہ کہ حضور نے از خود عربی اور فارسی زبان میں جہاد کے متعلق اپنے عقائد اس کتاب میں اشتہار کی شکل میں شائع کئے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے بھی مطالبہ کیا کہ اگر وہ حکومت کی خیر خواہی میں بچے ہیں تو وہ بھی عربی اور فارسی میں ایسا اشتہار شائع کر دیں۔حقیقتہ المہدی کے آغاز میں حضور نے ایک درد انگیز دعا کی ہے جس کے چند ابتدائی اشعار یہ ہیں سما و مهربان و رہنما اے قدیر و خالق ارض اے رحیم اے کہ میداری تو بر دلها نظر اے کہ از تو نیست چیزے مستتر