تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 629 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 629

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۵۹۴ حلیہ مبارک خصائل و شمائل اور اخلاق عالیہ گئے تھے وہ شرم سے کئے جاتے تھے۔دشمنوں کے ساتھ سلوک قرآن شریف فرماتے ہے لا یجر منكم شنان قوم على ان لا مسلمانو چاہیے تعدلوا اعدلوا هوا قرب للتقوى- (الحجرات) یعنی اے ہے کہ کسی قوم یا فرقہ کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان کے معاملہ میں عدل و انصاف کا طریق ترک کردو بلکہ تمہیں ہر حال میں ہر فریق اور ہر شخص کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرنا چاہیے۔قرآن شریف کی یہ زریں تعلیم حضرت مسیح موعود کی زندگی کا نمایاں اصول تھی۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں کسی شخص کی ذات سے عداوت نہیں بلکہ جھوٹے اور گندے خیالات سے دشمنی ہے۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں۔میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔میں بنی نوع انسان سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے ایک والدہ مہربان اپنے بچوں سے کرتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر۔میں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بد عملی اور بد اخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔"۔۔یہ ایک محض زبانی دعوئی نہیں تھا بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ مخلوق خدا کی ہمدردی میں گزرتا تھا اور دیکھنے والے حیران ہوتے تھے کہ خدا کا یہ بندہ کیسے ارفع اخلاق کا مالک ہے کہ اپنے دشمنوں تک کے لئے حقیقی ماؤں کی سی تڑپ رکھتا ہے۔چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو آپ کے مکان ہی کے ایک حصہ میں رہتے تھے اور بڑے ذہین اور نکتہ رس بزرگ تھے۔روایت کرتے ہیں کہ جن دنوں پنجاب میں طاعون کا دور دورہ تھا اور بے شمار آدمی ایک ایک دن میں اس موذی مرض کا شکار ہو رہے تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علیحدگی میں دعا کرتے سنا اور یہ نظارہ دیکھ کر محو حیرت ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب کے الفاظ یہ ہیں۔اس دعا میں آپ کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ منے والے کا پتہ پانی ہو تا تھا اور آپ اس طرح آستانہ الہی پر گریہ وزاری کر رہے تھے کہ جیسے کوئی عورت دردزہ سے بیقرار ہو۔میں نے غور سے سنا تو آپ مخلوق خدا کے واسطے طاعون سے نجات کے لئے دعا فرمار ہے۔۔اور کہہ رہے تھے کہ الہی ! اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو گئے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔" " قادیان کے بعض آریہ سماج حضرت مسیح موعود کے سخت مخالف تھے اور آپ کے خلاف ناپاک پراپیگنڈے میں حصہ لیتے رہتے تھے مگر جب بھی انہیں کوئی تکلیف پیش آتی یا کوئی بیماری لاحق ہوتی تو