تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 624
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۸۹ حلیہ مبارک ، خصائل، شمائل اور اخلاق عالیه مولوی صاحب مرحوم کی طبیعت نہایت ذہین اور بازاق تھی ان دوست کی بات سن کر کہنے لگے ”میاں تم جانتے ہو کہ آج کل ملکہ کا راج ہے پس میرا مشورہ یہ ہے کہ چپکے سے اپنی بیوی کو منا کر گھر واپس لے جاؤ اور جھگڑے کو لمبا نہ کرو۔" چنانچہ ان صاحب نے ایسا ہی کیا اور گھر کی ایک وقتی ناراضگی پھر امن اور خوشی کی صورت میں بدل گئی۔لطیفہ اس بات میں یہ تھا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے جو یہ کہا کہ آج کل ملکہ کا راج ہے اس سے ان کی یہ مراد تھی کہ جہاں آج کل حکومت انگریزی کی باگ ڈور ایک ملکہ کے ہاتھ میں ہے وہاں جماعت احمدیہ کی روحانی بادشاہت میں بھی جہاں تک اس قسم کے خانگی امور کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود گھر والوں کی بات کو زیادہ وزن دیتے ہیں اور عورتوں کی ہمدردی اور ان کے حقوق کا ان کو خاص خیال رہتا ہے۔رو سری طرف حضرت مسیح موعود کے احسان اور شفقت کا یہ نتیجہ نہیں تھا کہ ہماری والدہ صاحبہ (یعنی حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا۔ناقل) کے دل میں حضرت مسیح موعود کے ادب و احترام یا آپ کی قدرو منزلت میں کوئی کمی آجاتی بلکہ حضرت مسیح موعود کے لئے ان کا رویہ نہایت مخلصانہ اور نہایت درجہ مودبانہ تھا۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر اپنے لئے ایک نکاح ثانی کی پیشگوئی فرمائی تو گو یہ پیشگوئی بعض شرائط کے ساتھ مشروط تھی مگر پھر بھی چونکہ اس وقت اس کا ظاہر پہلو یہی سمجھا جاتا تھا کہ یہ ایک نکاح کی پیشگوئی ہے اور لڑکی کے والدین اور عزیز و اقارب حضرت مسیح موعود کے سخت خلاف تھے تو ایسے حالات میں حضرت والدہ صاحبہ نے کئی دفعہ خدا کے حضور رو رو کر دعائیں کیں کہ "خدایا تو اپنے مسیح کی سچائی کو ثابت کر اور اس رشتہ کے لئے خود اپنی طرف سے سامان مہیا کر دے۔اور جب حضرت مسیح موعود نے ان سے دریافت کیا کہ اس رشتہ کے ہو جانے سے تو تم پر سو کن آتی ہے پھر تم ایسی دعا کس طرح کرتی ہو ؟ " تو حضرت ام المومنین نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کچھ بھی ہو میری خوشی اس میں ہے کہ آپ کے منہ سے نکلی ہوئی بات پوری ہو جائے۔اس چھوٹے سے گھر یلو واقعہ سے اس بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے بینظیر حسن سلوک اور عدیم المثال شفقت نے آپ کے اہل خانہ پر کس قدر غیر معمولی اثر پیدا کیا تھا؟ الغرض آپ کا اپنے اہل وعیال کے ساتھ ایسا اعلیٰ سلوک تھا کہ جس کی نظیر تلاش کرنا بے سود ہے !! دوستوں کے ساتھ سلوک حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالٰی نے ایسا دل عطا کیا تھاجو محبت اور وفاداری کے جذبات سے معمور تھا۔آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے کسی محبت کی عمارت کو کھڑا کر کے پھر اس کو گرانے میں کبھی پہل نہ کی۔ایک صاحب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آپ کے بچپن کے دوست اور ہم مجلس تھے گو آپ کے دعوئی مسیحیت