تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 620 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 620

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۸۵ حلیہ مبارک ، خصائل ، شمائل اور اخلاق عا جن میں ایک عام انسان کو یہ خیال تک نہیں جاتا کہ اس معاملہ میں بھی شریعت کا کوئی حکم ہو گا ان میں بھی ہر قدم پر قرآن وحدیث کا حکم مستحضر رہتا تھا اور آپ اس حکم کو رسم و عادت یا چٹی کے طور پر نہیں بلکہ ایک مقدس فرض کے طور پر رحمت کے احساس کے ساتھ بجالاتے تھے۔میں بڑی باتوں کو دانستہ ترک کرتے ہوئے ایک نہایت معمولی واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے اہل ذوق آپ کے اطاعت رسول کے جذبہ کا کسی قدر اندازہ کر سکتے ہیں۔گورداسپور میں جب کہ مولوی کرم دین جہلمی کی طرف سے آپ کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ دائر تھا۔ایک گرمیوں کی رات میں جب کہ سخت گرمی تھی اور آپ اس روز قادیان سے گورداسپور پہنچے تھے آپ کے لئے مکان کی کھلی چھت پر پلنگ بچھایا گیا۔اتفاق سے اس مکان کی چھت پر صرف معمولی منڈیر تھی اور کوئی پردہ کی دیوار نہیں تھی، جب حضرت مسیح موعود بستر پر جانے لگے تو یہ دیکھ کر چھت پر کوئی پردہ کی دیوار نہیں ہے ناراضگی کے لہجہ میں خدام سے فرمایا کہ " میرا بستر اس جگہ کیوں بچھایا گیا ہے کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے۔" اور چونکہ اس مکان میں کوئی اور مناسب صحن نہیں تھا آپ نے باوجود شدت گرمی کے کمرہ کے اندر سونا پسند کیا مگر اس کھلی چھت پر نہیں۔آپ کا یہ نہ اس خوف کی وجہ سے نہیں تھا کہ ایسی چھت پر سونا خطرے کا باعث ہے بلکہ اس خیال سے تھا کہ آنحضرت ا نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ایک اور موقعہ پر جب کہ آپ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے اور اس وقت دو تین باہر سے آئے ہوئے احمدی بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھے کسی شخص نے دروازہ پر دستک دی۔اس پر حاضر الوقت احباب میں سے ایک شخص نے اٹھ کر دروازہ کھولنا چاہا۔حضرت مسیح موعود نے یہ دیکھا تو گھبرا فعل کر اٹھے اور فرمایا ” ٹھہریں ٹھہریں میں خود کھولوں گا۔آپ دونوں مہمان ہیں اور آنحضرت ا نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔" غرض حضرت مسیح موعود کو نہایت چھوٹی باتوں میں بھی قال اللہ اور قال الرسول کا انتہائی پاس تھا اور زندگی کے ہر قدم پر خواہ وہ بظاہر کیسا ہی معمولی ہو آپ کی نظر لاز ماسید بھی خدا اور اس کے رسول کی طرف اٹھتی تھی۔اس ضمن میں آپ نے جو تعلیم اپنے متعین کو دی ہے وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔فرماتے ہیں۔"جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے کسی حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہر گز داخل نہ ہو گا سو تم کوشش کرو جو ایک نقطہ اور شعشہ قران شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دے نا تم اس کے لئے پکڑے نہ جاؤ۔" اور مخصوص طور پر تقوی اللہ کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔۔عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک۔وہ ہے جس کا کام تقویٰ