تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 619
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۸۴ علیہ مبارک ، خصائل وشمائل اور اخلاق عالیہ مسیح موعود کا دستور تھا کہ با قاعدہ شروع وقت میں اٹھ کر ادا فرماتے تھے۔اور اگر کبھی زیادہ بیماری کی حالت میں بستر سے اٹھنے کی طاقت نہیں ہوتی تھی تو پھر بھی وقت پر جاگ کر بستر میں ہی اس مقدس عبادت کو بجالاتے تھے۔جوانی کے عالم میں ایک دفعہ مسلسل آٹھ نو ماہ تک روزے رکھے اور آہستہ آہستہ خوراک کو اس قدر کم کر دیا کہ دن رات میں چند تولہ سے زیادہ نہیں کھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خدا کے فضل سے اپنے نفس پر اس قدرت حاصل ہے کہ اگر کبھی فاقہ کرنا پڑے تو قبل اس کے مجھے ذرا بھی اضطراب ہو ایک موٹا تازہ شخص اپنی جان کھو بیٹھے۔بڑھاپے میں بھی جب کہ صحت کی خرابی اور عمر کے طبعی تقاضے اور کام کے باری بوجھ نے گویا جسمانی طاقتوں کو تو ڑ کر رکھ دیا تھا۔روزے کے ساتھ خاص محبت تھی اور بسا اوقات ایسا ہو تا تھا کہ سحری کھا کر روزہ رکھتے تھے اور دن کے دوران میں ضعف سے مغلوب ہو کر جبکہ قریبا غشی کی سی حالت ہونے لگتی تھی خدائی حکم کے ماتحت روزہ چھوڑ دیتے۔مگر جب دو سرا دن آتا تو پھر شوق عبادت میں روزہ رکھ لیتے۔زکوۃ آپ پر کبھی فرض نہیں ہوئی یعنی آپ کے پاس کبھی اس روپیہ جمع نہیں ہوا کہ آپ پر زکوۃ فرض ہوتی بلکہ آپ نے اپنے محبوب آقا اور مخدوم نبی کی طرح جو بھی ملا ا سے خدا کی راہ میں اور دین کی ضروریات میں بے دریخ خرچ کر دیا اور دنیا کے اموال سے اپنے ہاتھوں کو خالی رکھا اور مقدس بانی اسلام کی طرح اس اصول کو حرز جان بنایا کہ الفقر فخری یعنی فقر کی زندگی گزار نا میرے لئے فخر کا موجب ہے۔حج بھی آپ باو جود خواہش کے کبھی ادا نہیں کر سکے کیونکہ اسلام نے حج کے لئے جو شرطیں مقرر کی ہیں وہ آپ کو میسر نہیں تھیں یعنی اول تو آپ کے پاس کبھی بھی حج کے مصارف کے لئے کافی روپیہ جمع نہیں ہوا۔دو سرے ان خطرناک فتوؤں کے پیش نظر جو اسلامی دنیا میں آپ کے خلاف لگ چکے تھے آپ کے لئے حج کا رستہ یقین پر امن نہیں تھا مگر خدا نے آپ کی اس خواہش کو بھی خالی نہ جانے دیا چنانچہ آپ کی وفات کے بعد حضرت ام المومنین نے آپ کی خواہش کو اس طرح پورا فرما دیا کہ اپنے خرچ پر ایک شخص کو مکہ مکرمہ میں بھجوا کر آپ کی طرف سے حج کروا دیا۔غرض آپ ہر جہت سے عبادت الہی میں ایک بہترین نمونہ تھے۔۔تقویٰ اللہ اور اطاعت رسول حضرت مسیح موعود کو تقویٰ کی باریک درباریک راہوں پر نگاہ رہتی تھی اور ہر قدم اٹھاتے ہوئے آپ کی نظر اس جستجو میں گھومتی تھی کہ اس معاملہ میں خدا اور اس کے رسول کا کیا ارشاد ہے؟ زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں