تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 49
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۹ مولوی محمد حسین صاحب ٹالوی کی شورش اور ناکامی مسٹرڈوئی عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی کو فہمائش کر رہے تھے کہ آئندہ وہ تکفیر اور بد زبانی سے باز رہیں اور سید شبیر حسین صاحب اور منشی محمد بخش صاحب ڈپٹی انسپکٹر عدالت میں حاضر تھے کہ عین اس وقت رسالہ "حقیقت المهدی" جس میں بریت کی پیشگوئیاں درج تھیں عدالت کے کمرہ میں مولوی فضل دین صاحب پلیڈ ر چیف کورٹ اور مسٹر براؤن پلیڈ ر چیف کورٹ کے ہاتھ میں دیا گیا اور وہ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے عدالت کے سامنے ان پیشگوئیوں کو پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس وقت یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور مسٹر براؤن صاحب نے شیخ رحمت اللہ صاحب (مالک انگلش ویر ہاؤس لاہور) سے بھی کہا کہ پیشگوئی پوری ہو گئی بلکہ (حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی روایت کے مطابق وہ خود حضور کی خدمت میں پہنچے اور حضور کی پیشگوئی کے پورے ہونے پر مبارک باد پیش کی۔ان معزز وکلاء کے مونہہ سے یہ باتیں اس لئے بے ساختہ نکل گئیں کہ انہوں نے کئی پیشیوں میں بچشم خود مشاہدہ کیا تھا کہ حضور کو سزا دلانے کے لئے پولیس اور شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی کی طرف سے کیسی جان توڑ کوششیں ہو رہی تھیں کہ آپ سزا پائیں یا کم سے کم معقول ضمانت ہو جائے۔یہ عجیب بات ہے کہ شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی کو مسٹرڈوئی نے مقدمہ سے اس لئے الگ کر دیا تھا کہ اس کی نسبت الزام کی بعد کو تحقیقات ہوگی لیکن اس آخری پیشی پر مولوی صاحب مذکور کسی تعلق کے بغیر محض تماشا دیکھنے کے لئے حاضر عدالت ہو گئے تب عدالت نے ان کو حاضر پا کر بلا توقف ان سے اس مضمون کے نوٹس پر دستخط کرائے کہ آئندہ وہ بد زبانی، دشنام طرازی اور تکفیر اور تکذیب سے باز رہیں گے حالانکہ ان کو اس وقت کسی نے بلایا نہیں تھا یہ محض خدا کا ارادہ ان کو کھینچ لایا تا اس کا یہ پاک الهام پورا ہو کہ ظالم اپنی شرارتوں سے روکا جائے گا یعنی اس کا مونہہ بد زبانی سے بند کیا جائے گا) اور چہرے بگڑ جائیں گے۔خدا کی قدرت !! یہ مقدمہ جو ایک متعصب ڈپٹی انسپکٹر نے آپ کے مخالفین کی پشت پناہی کے لئے کھڑا کیا تھا۔آپ کی قبولیت اور شہرت میں اضافہ کا موجب بن گیا۔انگریزی عدالت تک آپ کو اپنا پیغام پہنچانے کا موقعہ ملا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ اپنی پیشگوئی کے مطابق باعزت طور پر بری کر دیئے گئے اور ہر طرح کامیاب و کامران اور مظفر و منصور ثابت ہوئے لیکن اس کے بر عکس مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی سخت ذلت ہوئی۔حضرت اقدس کا تو ابتدا ہی سے یہ طریق تھا کہ حضور موت کی پیشگوئی فریق ثانی کی خواہش اور اجازت کے بغیر شائع نہیں فرمایا کرتے تھے۔جیسا کہ حضور نے اپنے دفاعی بیان میں بھی بالتفصیل ذکر فرمایا اور تکفیر اور سخت الفاظ کا استعمال آپ کو پسند نہیں تھا بلکہ حضور دو سال سے مولوی محمد حسین