تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 615
تاریخ احمدیت جلد ۲ عید مبارک ، خصائل و شمائل او ائل اور اخلاق عالیہ مگر آنحضرت کی محبت کے یہ معنی نہیں تھے کہ آپ مذہبی بزرگوں کا احترام دوسرے بزرگوں کی محبت سے خالی تھے بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت کی محبت نے آپ کے دل میں دوسرے پاک نفس بزرگوں کی محبت کو بھی ایک خاص جلا دے دی تھی اور آپ کسی بزرگ کی ہتک گوارا نہیں کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ اپنے اصحاب کی ایک مجلس میں یہ ذکر فرما رہے تھے کہ نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کی تلاوت ضروری ہے اور امام کے پیچھے بھی سورہ فاتحہ پڑھنی چاہیے۔اس پر حاضرین میں سے کسی شخص نے عرض کیا کہ حضور کیا سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ؟ آپ نے فورا فرمایا ”نہیں نہیں ہم ایسا نہیں کہتے کیونکہ حنفی فرقہ کے کثیر التعداد بزرگ یہ عقیدہ رکھتے رہے ہیں کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں اور ہم ہر گز یہ خیال نہیں کرتے کہ ان بزرگوں کی نماز نہیں ہوئی۔" اسلام کے گزشتہ مجددین کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی غیرت رکھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی نے اپنے بچپن کے زمانہ میں جہانگیر کا شاندار مقبرہ دیکھنے کا شوق ظاہر کیا۔اس پر حضرت مسیح موعود نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا۔"میاں تم جہانگیر کا مقبرہ دیکھنے کے لئے بے شک جاؤ لیکن اس کی قبر پر نہ کھڑا ہونا کیونکہ اس نے ہمارے ایک بھائی حضرت مجددالف ثانی کی ہتک کی تھی۔" تین سو سال سے زائد زمانہ گزرنے پر بھی ایک مسلمان بادشاہ کے ایسے فعل پر جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے اسلامی تاریخ میں گویا ایک عام واقعہ ہے کیونکہ مسلمان بادشاہوں کے زمانہ میں ایسے کئی واقعات گزر چکے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس قدر غیرت ظاہر کرنا اور مجددالف ثانی کے لئے بھائی جیسا پیار لفظ استعمال کرنا اس یگانگت اور محبت اور عقیدت کی ایک بہت روشن مثال ہے جو آپ کے دل میں امت محمدیہ کے صلحاء کے لئے موجزن تھی۔اسی طرح آپ کو غیر مسلم قوموں کے بزرگوں کی عزت کا بھی بہت خیال تھا اور ہر قوم کے تسلیم شدہ مذہبی بزرگوں کو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتے تھے بلکہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالی کسی شخص کے نام کو عزت کے ساتھ دنیا میں قائم کر دیتا ہے اور لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اس کی بزرگی کا خیال بٹھا دیتا ہے اور اس کے سلسلہ کو استقلال اور دوام حاصل ہو جاتا ہے تو ایسا شخص جسے اس قدر قبولیت حاصل ہو جاوے جھوٹا نہیں ہو سکتا اور ہر انسان کا فرض ہے کہ بچوں کی طرح اس کی عزت کرے اور کسی رنگ میں اس کی ہتک کا مرتکب نہ ہو۔اس معاملہ میں خود اپنے مسلک کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔