تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 594
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۵۹ بہشتی مقبرہ کی خاک مقدس کے سپرد کر دیا گیا۔man یف در چشم زدن صحبت یار آخر شد روئے گل میر ندیدم که بهار آخر شد جماعت احمدیہ کا خلافت پر پہلا اجماع حضرت اقدس کا مزار مبارک بالکل کچا رکھا گیا اور مزار مبارک کتبہ اور چار دیواری محض شناخت کے لئے قبر کے سرہانے چونے کی دیوار پر سیاہی سے عارضی طور پر یہ الفاظ لکھ دیئے گئے ” جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی رئیس قادیان مسیح موعود و مجد و صدی چہار دہم تاریخ وفات ۲۶ / مئی ۱۹۰۸ مستقل کتبہ کے لئے مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے جو افسر بہشتی مقبرہ تھے ۲۱ فروری ۱۹۰۹ء کے الحکم میں ایک بہت لمبا کتبہ لکھنا جس میں مسیح دقت و مهدی و مجدد جری اللہ فی حلل الانبیاء اور نبی وغیرہ القاب سے یاد کیا گیا تھا مگر خلافت اوٹی میں اس کے لکھنے کی نوبت نہ آئی۔خلافت ثانیہ میں جب کہ بارشوں کی وجہ سے دیوار کی سیاہی کے الفاظ دھل گئے تو سنگ مرمر کا مستقل کتبہ نصب کیا گیا جس پر یہ الفاظ درج کئے گئے۔مزار مبارک حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مهدی مسعود علیه و علی مطالعه محمد الصلوة والسلام تاریخ وفات ۲۴ / ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ بمطابق ۲۶ / مئی ۱۹۰۸ - انا لله و انا اليه راجعون میمی کتبہ آج تک موجود ہے۔نومبر ۱۹۲۵ء میں حفاظت کی غرض سے مزار کے ارد گرد چار دیواری بھی تعمیر کر دی گئی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر اخبارات کے تبصرے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیسی بین الاقوامی شخصیت کا انتقال جس نے مذہبی دنیا میں اپنے فولادی قلم زبر دست مقناطیسی جذب و کشش مقدس تعلیمات اور غیر معمولی قوت قدسی کے ساتھ ربع صدی سے زائد عرصہ تک تہلکہ مچائے رکھا کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا کہ اس پر خاموشی اختیار کی جاسکتی۔ادھر یہ چونکا دینے والی خبر سنی گئی ادھر ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پریس میں ایک شور پڑ گیا اور اخبارات نے حضور کی وفات کی خبر شائع کرتے ہوئے آپ کو