تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 584
تاریخ احمدیت - جلد ۲ 549 سیدنا حضرت مسیح موعود کار سال مبارک جناز وہ تدفین نعش مبارک کا لاہور سے قادیان لایا جانا حضور کا وصال ساڑھے دس بجے کے قریب ہو ا تھا۔انتقال کے معمولی رقفہ کے بعد لاہور میں تمام موجود احمد بی یکے بعد دیگرے آئے اور حضرت اقدس کی پیشانی مبارک کو بوسہ دیتے گئے۔کچھ دیر کے بعد حضور کے خدام ذرا باہر بیٹھے اور شیخ رحمت اللہ صاحب ، خواجہ کمال الدین صاحب ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب لاہور کے سول سرجن صاحب کے پاس سرٹیفکیٹ کے لئے گئے۔سرٹیفکیٹ میں سول سرجن صاحب نے سان لکھا تھا کہ حضرت اقدس نے اسماء کی خراش سے انتقال کیا ہے۔ہمالہ کے لئے ریزرو گاڑی کا انتظام کیا گیا۔اڑھائی بجے تک غسل اور کفن سے فراغت ہو گئی۔غسل دینے والے بھائی عبدالرحیم صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب اور ایک اور احمدی دوست تھے۔II ایک کثیر جماعت نے جنازہ پڑھا اور اس کے بعد جوق در جوقی احمدی اور غیر احمدی زیارت کے واسطے آتے رہے حضرت اقدس کی شکل مبارک نهایت منور تھی اور کسی قدر سرخی بھی رخسار پر تھی۔چار بجے کے قریب پہلے مستورات اسٹیشن کی طرف روانہ ہو ئیں بعد ازاں احمد یہ بلڈ نگس سے چار پائی پر جنازہ اٹھایا گیا۔اسٹیشن پر پہنچ کر تابوت گاڑی میں رکھا گیا۔یہاں آکر اس خطرناک سازش کا پتہ چلا کہ کسی مخالف نے ٹریفک سپرنٹنڈنٹ سے کہہ دیا کہ مرزا صاحب ہیضہ سے فوت ہوئے ہیں اس لئے جنازہ گاڑی سے نہیں جانا چاہیے۔چنانچہ اسٹیشن ماسٹر نے نعش بھیجوانے سے انکار کر دیا جس پر شیخ رحمت اللہ صاحب نے سول سرجن کا سرٹیفکیٹ دکھلایا۔اسے مجبورا اجازت دینا پڑی اور مخالفوں کا یہ منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔10 ہونے چھ بجے کے قریب گاڑی لاہور سے بٹالہ کو ردا نہ ہوئی۔گاڑی میں جنازہ کے ساتھ اہل بیت حضرت اقدس ، حضرت مولوی نور الدین صاحب ، حضرت میر ناصر نواب صاحب اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے علاوہ حضرت اقدس کے بہت سے خدام بھی تھے۔جناب عبد المجید صاحب سالک کے بیان کے مطابق مولانا ابو الکلام آزاد امر ترتے لاہور آئے اور یہاں سے مرزا صاحب کے جنازے کے ساتھ بٹالہ تک گئے۔گاڑی لاہ درست امر تسر پہنچی تو یہاں سے بھی بہت سے احمد کی دوست مثلاً میاں نبی بخش صاحب سور اگر اور ڈاکٹر عباد اللہ صاحب اور احباب کپور تحمله شهر مثلاً حضرت منشی ظفر احمد صاحب جنازہ کے ساتھ ہوئے۔گاڑی رات دس بجے کے قریب بٹالہ پہنچی نفش مبارک ریز روڈ بہ میں ہی رہی جس کے پاس خدام موجود رہے۔دو بجے کے قریب حضور کا جسد مبارک صندوق سے نکال کر ایک آم کے