تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 585 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 585

تاریخ احمدیت ، جلد ۲ ۵۵۰ سید نا حضرت مسیح موعود کار سال مبارک جنا زور تدفین درخت کے نیچے چارپائی پر اور صندوق و برف گڈے پر رکھے گئے۔مستورات تو دو گھنٹہ بعد نو بجے قادیان پہنچیں مگر احباب جنازہ کو شانہ بشانہ اٹھا کر قادیان کی طرف روانہ ہو گئے۔دیوانی والی کے تکیہ میں دوستوں نے صبح کی نماز ادا کی۔نہر کے پل کے قریب جماعت قادیان کے دوست بھی آشامل ہوئے۔کوئی آٹھ بجے جنازہ قادیان پہنچا اور حضور کی نعش مبارک بہشتی مقبرہ سے ملحق باغ میں واقعہ پکے مکان میں رکھ دی گئی۔الله الله Pri صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو حادثہ کی الہامی اطلاع سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے ایام میں صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب جالندھر میں افسر مال کی حیثیت میں متعین تھے۔حضور کی وفات سے پیشتر آپ باہر اپنے حلقہ میں دورہ پر تھے۔دورہ ختم کر کے آپ واپس گھوڑے پر سوار جالندھر کی طرف تشریف لا رہے تھے کہ راستہ میں آپ کو یکا یک الہام ہوا " ماتم پرسی " آپ گہری سوچ میں پڑ کر بدستور چلتے چلے گئے کہ راستہ میں دوبارہ یہی الہام ہوا۔اب خیالات بہت پراگندہ ہو گئے قیاس کیا کہ شاید تائی صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہو مگر ابھی گھوڑے پر سوار چلتے گئے کہ تیسری مرتبہ پھر الہام ہو ا " ماتم پرسی جس پر آپ سخت خوفزدہ ہو گئے اور فورا گھوڑے سے اتر کر راستہ میں ہی زمین پر بیٹھ گئے اور سخت پریشانی میں سوچنے لگے کہ اس الہام کا مطلب کیا ہے۔آخر گہرے سوچ بچار کے بعد دل میں یہ سوال اٹھا کہ خدا تعالیٰ کی جانب سے ماتم پرسی ہو تو لازمی ہے کہ یہ کسی اعلیٰ اور ارفع ہستی کی موت اور وصال سے وابستہ ہو۔اس خیال کا آنا تھا کہ آپ کو قطعی یقین ہو گیا کہ بس یہ حضرت والد صاحب ( مسیح موعود ) کا ہی وصال ہے۔یہ خیال راسخ ہوتے ہی آپ پھر گھوڑے پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے اور اسی غم وحزن کی حالت میں بجائے اپنے بنگلہ پر جانے کے سیدھے انگریز ڈپٹی کمشنر صاحب جالندھری کے بنگلہ کو تشریف لے گئے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات ہوئی تو ان کو اطلاع دی کہ میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے فورا رخصت دے دی جائے میں جا رہا ہوں اور یہ بھی بتلایا کہ میں اس غرض سے دورہ سے سیدھا آپ کے بنگلہ پر آیا ہوں۔صاحب موصوف نے دریافت کیا کہ کیا والد صاحب کی وفات کی خبر آپ کو راستہ میں ملی ہے یا کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے یا کوئی آدمی آیا ہے۔مگر آپ نے جواب دیا کہ نہ کوئی تار آیا ہے نہ کوئی آدمی اور نہ کسی اور ذریعہ سے اطلاع ہوئی ہے صرف خدائی تار آیا ہے اور صاحب موصوف کے دریافت کرنے پر آپ نے اپنے راستہ کا تمام ماجر اسنایا تو صاحب کو بہت حیرت ہوئی کہ اس پر اتنا یقین کر لیا اور کہا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے یونہی آپ کو وہم ہو گیا ہے آپ اطمینان رکھیں ایسا کوئی حادثہ نہیں ہوا