تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 582
محمد بیت ، جلد ۲ صداقت بھرا شعر کہا تھا کہ :- ۵۴۷ سید نا حضرت مسیح موعود کار سال مبارک جنازه و تدلین كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلَيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحاذِرُ (ترجمہ) تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہو گئی۔اب تیرے بعد کوئی شخص پڑا مرا کرے ہمیں اس کی پروا نہیں کیونکہ ہم تو تیری ہی موت سے ڈر رہے تھے۔آج تیرہ سو سال کے بعد اس نبی کے ایک غلام کی وفات پر پھر وہی نظارہ چشم فلک نے دیکھا کہ جنہوں نے اسے پہچان لیا تھا ان کا یہ حال تھا کہ یہ دنیا ان کی نظروں میں حقیر ہو گئی اور ان کی تمام تر خوشی اگلے جہان میں ہی چلی گئی۔۔۔خواہ صدی بھی گزر جائے مگر وہ دن ان کو کبھی نہیں بھول سکتے جب کہ خدا تعالٰی کا پیارا رسول ان کے درمیان چلتا پھرتا تھا"۔14 حضرت مسیح موعود کے اہل بیت کا بیمثال صبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے والہانہ عقیدت رکھنے والے عشاق جو جماعت کی ذمہ داری کو سمجھتے اور وقت کی نزاکت کو پہنچانتے تھے اپنے دلوں کے جذبات کو روکے ہوئے تھے اور چشم پر آب ہونے کے باوجود انہوں نے اس وقت صبر و تحمل کا قابل رشک نمونہ دکھایا حتی کہ لاہور کے مخالفین نعش کی طرف آتے تھے تو حیران ہو کر واپس چلے جاتے تھے اور یقین نہ کرتے تھے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں کیونکہ ان کو چیخیں مار کر روتا ہوا اور آہ و بکا میں مصروف کوئی نہ دکھائی دیتا تھا۔بالخصوص حضرت اقدس کے اہل بیت نے اس عظیم ترین صدمہ میں جس رضا بالقضاء کا ثبوت دیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی زندگی کے آخری لمحات کے وقت حضرت ام المومنین نے بجائے دنیا دار عورتوں کی طرح رونے چیخنے اور بے صبری کے کلمات منہ سے نکالنے کے صرف اللہ تعالیٰ کے حضور گر کے سجدہ میں نہایت عجز و انکسار کے ساتھ دعائیں مانگنے کا پاک نمونہ دکھایا۔جب اخیر میں لیس پڑھی گئی اور حضور کی روح مقدس قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے محبوب حقیقی کے حضور حاضر ہو گئی تو حضرت ام المومنین نے فرمایا اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور بس خاموش ہو گئیں کسی قسم کا جزع فزع نہیں کیا۔اندر بعض مستورات نے رونا شروع کیا آپ نے ان عورتوں کو بڑے زور سے جھڑک دیا اور کہا میرے تو خاوند تھے میں نہیں روتی تم رونے والی کون ہو۔یہ صبر و استقلال کا نمونہ ایک ایسی پاک عورت سے جو ناز و نعمت میں پلی ہو اور جس کا ایسا روحانی بادشاہ اور ناز اٹھانے والے مقدس خاوند انتقال کر جائے ایک زبر دست اعجاز تھا۔