تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 568
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۳۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری سفر لا ہو رہ - جون ۱۹۹۴ء - لندن) مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ”حیات قدی" جلد ۳ صفحه ۵ از حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی) قیام لاہور کا ایک ایمان افروز واقعہ بابو غلام محمد صاحب فورمین لاہور اور میاں عبد العزیز صاحب مغل کا بیان ہے کہ ایک دفعہ جب کہ حضور لاہور تشریف لائے تو ہم چند نوجوانوں نے مشورہ کیا کہ دوسری قوموں کے بڑے بڑے لیڈر جب یہاں آتے ہیں تو ان کے نوجوان گھوڑوں کی بجائے خود ان کی گاڑیاں کھینچتے ہیں۔اور ہمیں جو لیڈر اللہ تعالی نے دیا ہے یہ اتنا جلیل القدر ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔پس آج گھوڑوں کی بجائے ہمیں ان کی گاڑی کھینچنی چاہیے۔چنانچہ ہم نے گاڑی والے سے کہا کہ اپنے گھوڑے الگ کر لو آج گاڑی ہم کھینچیں گے۔کوچ مین نے ایسا ہی کیا۔جب حضور باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ گھوڑے کہاں ہیں ؟ ہم نے عرض کیا کہ حضور دوسری قوموں کے لیڈر آتے ہیں تو ان قوموں کے نوجوان ان کی گاڑیاں کھینچتے ہیں آج حضور کی گاڑی کھینچنے کا شرف ہم حاصل کریں گے۔فرمایا فور اگھوڑے جو تو !! ہم انسان کو حیوان بنانے کے لئے دنیا میں نہیں آئے ہم تو حیوان کو انسان بنانے کے لئے آئے ہیں۔اتحاد اقوام کے لئے ”پیغام صلح کی تصنیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قیام لاہور کے دوران میں صرف تقاریر کے ذریعہ سے ہی اتمام حجت نہیں فرمائی بلکہ حضور نے ان دنوں ایک عظیم الشان رسالہ "پیغام صلح " بھی لکھا جو حضور کی آخری تصنیف تھی۔حضور کے لکھے ہوئے مسودہ کو ساتھ ہی ساتھ کاتب بھی لکھتا جاتا تھا۔ایک مرتبہ نماز عصر کے بعد حسب معمول تشریف فرما تھے اور احباب جھرمٹ ڈالے بیٹھے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب بھی موجود تھے۔کاتب مضمون لکھ رہا تھا اور خواجہ صاحب اپنی نگرانی میں لکھوا رہے تھے۔حضور نے پوچھا کہ خواجہ صاحب مضمون کا کیا حال ہے؟ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور کاتب لکھ رہا ہے۔حضور نے فرمایا کہ ”خواجہ صاحب جلدی کیجئے۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہماری صحت کا کیا حال