تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 561
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۲۶ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری مقر لا ہو را کے مکان میں۔ناقل) جاتے تھے اور داخل ہوتے ہی سامنے جو کمرے تھے ان میں دائیں ہاتھ کے کمرے میں حضرت اقدس کا دن میں قیام رہتا تھا اور دوسرا کمرہ جس میں آخری وقت چار پائی تھی یہ خالی تھا مگر اس میں آپ شملتے بھی تھے اور گزرگاہ یہی تھا اس سے صحن میں جانا ہو تا تھا۔باہر سے آکر بھی اس کمرے میں گزرنے کا راستہ تھا۔۔۔اس کمرہ کے سرہانے کی جانب (مغرب میں) ایک چھوٹے چھوٹے کمروں کا سلسلہ تھا۔دو تین یا شاید چار ہوں ان میں حضرت بڑے بھائی صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی۔ناقل ) اور منجھلے بھائی صاحب (حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۔ناقل ) وغیرہ رہتے تھے۔ان کے سامنے چھجے بھی تھے۔اس کے ساتھ صحن میں آپ رات کو سوتے تھے۔" الله ۲۔اس مکان کے مشرقی جانب خواجہ کمال الدین صاحب کا مکان تھا۔دونوں کے درمیان گلی تھی جس کے اوپر دونوں مکانوں کے الحاق کے لئے ایک پر وہ والا پل بنا ہوا تھا جس کے دروازے عموماً بند رہتے تھے اور صرف نماز کے وقت حضور کے تشریف لانے پر کھلتے تھے۔نمازیں خواجہ صاحب کے مکان کی بالائی منزل میں ہوتی تھیں۔۔تیسرا مکان کو ٹھی کی طرز کا ڈاکٹر مرزا محمد یعقوب بیگ صاحب کا تھا جس کے مشرق میں بعد از ان خلافت اولی میں احمد یہ بلڈ مکس کی مسجد تعمیر ہوئی۔لاہور میں حضرت اقدس کی مصروفیات۔تقاریر اور نصائح کا سلسلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی ہمیشہ معمور الاوقات رہی مگر یہاں تو حضور کی مصروفیات کا رنگ ہی اور ہو گیا تھا۔اور گو آپ بظاہر تبدیلی آب و ہوا کی نیت سے یہاں آئے تھے مگر یہاں تشریف لاتے ہی آپ اس طرح پیغام حق میں مصروف ہو گئے کہ یوں نظر آتا تھا کہ گو یا عظیم فاتح جرنیل ہے جو ایک دوسری منزل پر روانہ ہونے سے قبل اپنا کام تیزی سے ختم کرنے کی فکر میں دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔حضور علیہ السلام حسب معمول نمازوں کے اوقات میں باہر تشریف لاتے۔خدام اور زائرین کا ان اوقات میں ایک ہجوم ہو جاتا اور حضور اپنی پاک مجلسوں میں ایمان و عرفاں کے نکات بیان فرماتے۔ملاقات کرنے والوں میں رؤساء ، سیاسی لیڈر مسلمان، سکھ اور ہندو غرمکہ ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوتے اور فیض اٹھاتے۔اور جن سعید روحوں پر حق کھل جاتا وہ آپ کی بیعت میں شامل ہو جاتے۔چنانچہ ان دنوں اتنی کثرت سے لوگ بیعت میں داخل ہوئے کہ اخبار "بدر" میں ان کی اشاعت مشکل