تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 546
محمدیت۔جلد ۲ ۵۱۱ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخری سالانہ جلسہ دکھائے گی۔اب وہ وقت آگیا ہے جس کی خبر تمام انبیاء ابتداء سے دیتے چلے آئے ہیں۔خدا تعالٰی کے فیصلہ کا وقت قریب ہے اس سے ڈرو اور توبہ کرو۔" کانفرنس صد را انجمن احمدیه ای روز ۲۸ دسمبر ۱۹۰۷ءکو بعد از نماز مغرب صدر انجمن احدید کی کانفرنس ہوئی جس میں بیرو نجات کی اکثر انجمنوں کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ شامل ہوئے سیکرٹری صاحب کی پیش کردہ رپورٹ مختلف صیغوں کی پڑھی گئی اور اس کے بعد بجٹ برائے ۱۹۰۸ ء پیش ہوا۔بجٹ کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب نے تمام ضروری امور پر ایک مفصل بحث کی۔ازاں بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ایک تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ قرآن شریف کی رو سے کس قسم کی انجمنوں کا بنانا جائز ہے۔اس تقریر سے ظاہر ہو تا تھا کہ قرآن شریف علوم کا ایک ایسا سمند رہے کہ اس میں ہر ایک ضروری چیز پائی جاتی ہے۔ایام جلسہ میں ہر روز بیعت کا سلسلہ جاری رہا۔بیعت کرنے والوں کی تعداد بعض اوقات بیعت اتنی بڑھ جاتی کہ لوگوں کا حضور تک پہنچنا اور معمول کے مطابق حضرت اقدس علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا نا ممکن ہو جاتا اس لئے گڑیوں کے ذریعہ بیعت کی جاتی اور اس کا طریق یہ ہو تاکہ لوگ اپنی پگڑیاں اتار کر مختلف سمتوں میں پھیلا دیتے اور بعض پگڑیوں کو ایک دوسری سے باندھ کر دور دور تک پہنچا دیا جاتا۔ان پگڑیوں کا ایک سرا ان بیعت کرنے والوں کے ہاتھ میں ہو تا۔جو حضرت اقدس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کر رہے ہوتے تھے اور دو سرے بیعت کرنے والے ان پگڑیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیتے اس طرح گویا بظاہر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان بیعت کرنے والوں میں روحانی رو کا تسلسل قائم کیا جاتا۔بیعت کے الفاظ دو ہراتے وقت چونکہ حضور کی آواز بھی دور بیٹھے ہوئے بیعت کرنے والوں تک نہیں پہنچ سکتی تھی اس لئے مجمع میں دو تین خدام کھڑے ہو جاتے جو حضرت اقدس کی اتباع میں بیعت کے الفاظ بلند آواز سے دوہراتے ہوئے دوسرے بیعت کرنے والوں تک پہنچاتے تھے۔لنگر خانہ کا انتظام اور الہام اطعموا الجائع والمعتر بما يتوب على صاحب، عليكم شیخ فضل الدین صاحب مفتی فضل الرحمن صاحب قاضی امیر حسین صاحب نیز مدرسہ کے دوسرے اساتذہ اور طلباء نے بطور والنٹیرز مہمانوں کے کھانا کھلانے میں بہت محنت سے کام کیا۔لیکن مہمانوں کی آمد اندازے سے بہت ہی زیادہ بڑھ گئی تھی۔ایک دن بعض مہمانوں کو ناگزیر وجوہ کی بناء پر بہت دیر سے کھانا ملا۔اور بعض مہمان تو بغیر کھانا کھائے بھوکے ہی اپنے اپنے کمروں میں جا کر سو گئے۔نہ تو انہوں نے شکایت کی نہ کسی سے ذکر