تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 539
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۰۴ کی شورش میں جماعت کو نصیحت اسلام کو حضرت اقدس کے ذریعہ سے جو شان دار فتح نصیب ہوئی تھی اس پر پردہ ڈال دیا جائے۔مگر ان ناشائستہ حرکات سے ان کی مزید ذلت ورسوائی ہوئی اور خدا کا وہ الہام جو حضور نے اپنے مضمون کے آخر میں درج فرما دیا تھا دوسرے ہی روز پورا ہو گیا اور آریہ سماج کی یہ مکروہ کارروائی اسلام کی سچائی کا ایک چمکتا ہو انشان بن گئی جسے ہزاروں نے بچشم خود ملاحظہ کر لیا۔گالیوں کی مجلس میں بیٹھے رہنے پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین صاحب محمود حضرت مسیح موعود کی اظہار خفگی احمد خلیفتہ الحی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) ( کا بیان ہے کہ ”میری عمر اس وقت سترہ سال کی تھی مگر میں اس بد گوئی کو برداشت نہ کر سکا اور میں نے کہا میں تو ایک منٹ کے لئے بھی اس جلسہ میں نہیں بیٹھ سکتا۔میں یہاں سے جاتا ہوں۔اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی مجھے کہنے لگے مولوی صاحب (حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب۔ناقل ) تو یہاں بیٹھے ہیں اور آپ اٹھ کر باہر جارہے ہیں۔اگر یہ غیرت کا مقام ہو تا تو کیا مولوی صاحب کو غیرت نہ آتی ؟ میں نے کہا کچھ ہو مجھ سے تو یہاں بیٹھا نہیں جاتا اور رسول کریم ﷺ کی نسبت یہ سخت کلامی مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی۔وہ کہنے لگے آپ کو کم سے کم نظام کی تو اتباع کرنی چاہئے۔مولوی صاحب اس وقت ہمارے لیڈر ہیں اس لئے جب تک وہ بیٹھے ہیں اس وقت تک نظام کی پابندی کے لحاظ سے آپ کو اٹھ کر باہر نہیں جانا چاہئے۔ان کی یہ بات اس وقت کے لحاظ سے مجھے معقول معلوم ہوئی اور میں بیٹھ گیا۔جب ہم واپس آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو۔۔۔آپ کو اس قسم کا غصہ پیدا ہوا کہ ویسا غصہ آپ میں بہت ہی کم دیکھا گیا ہے۔آپ بار بار فرماتے۔دوسرے مسلمان تو مردہ ہیں ان کو کیا علم ہے کہ رسول کریم ﷺ کی کیا شان ہے۔لیکن ہم نے تو اس طرح اسلامی تعلیم کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے اور اس طرح رسول کریم ﷺ کے فضائل اور آپ کے کمالات کو روشن کیا ہے کہ اس کے بعد یہ تسلیم ہی نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری جماعت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ رسول کریم کی کیا شان ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تمہیں تو ایک منٹ کے لئے بھی اس جگہ پر بیٹھنا نہیں چاہئے تھا۔بلکہ جس وقت اس نے یہ الفاظ کے تھے تمہیں اسی وقت کھڑے ہو جانا چاہئے تھا اور اس ہال سے باہر نکل آنا چاہئے تھا۔اور اگر وہ تمہیں نکلنے کے لئے راستہ نہ دیتے تو پھر اس ہال کو خون سے بھرا ہوا ہونا چاہئے تھا۔یہ کیوں کر تم نے بے غیرتی دکھائی کہ رسول کریم ﷺ کو گالیاں دی گئیں اور تم خاموشی سے بیٹھ کر ان گالیوں کو سنتے رہے۔حضرت خلیفہ اول اس وقت آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔وہ جماعت کے ایک بڑے آدمی