تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 534
۴۹۹ ملکی شورش میں جماعت کو نصیحت عبد اللہ صاحب ( ان کی درخواست پر حضور نے تحریر فرمایا ” خط کے مضمون سے آگھی ہوئی۔امید ہے آپ کو انتظام کے وقت میں یاد کروں گا اور مناسب جگہ میں خدمت دین کے لئے بھیجوں گا۔مناسب ہے اپنا نام مفتی صاحب کے رجسٹر میں درج کرا دیں۔والسلام مرزا غلام احمد ) حضرت اقدس نے ان سب درخواستوں پر اظہار خوشنودی فرمایا اور ۲۵ اور ۲۹/ ستمبر ۱۹۰۷ء کو اس سلسلہ میں نہایت قیمتی نصائح فرما ئیں جو مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔حضور کی سکیم یہ تھی کہ ابتداء میں ۲ او اعطین کا انتخاب کیا جائے جو قریبی اضلاع میں متعین ہوں اور دو ایک ماہ تبلیغ میں باہر گزار دیں پھر دس پندرہ روز کے لئے مرکز میں آجایا کریں۔کچھ لٹریچر ان کے پاس موجود ہو تا جہاں مناسب سمجھیں وہاں تقسیم کریں۔وقف زندگی کی شرائط حضرت اقدس صحیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے " وقف زندگی" کی تحریک کا اعلان کرنے کے بعد میر حامد شاہ صاحب سے اس کی شرائط لکھوائیں اور کچھ اصلاح کے ساتھ ان کو پسند فرمایا۔ان شرائط میں ایک شرط یہ تھی کہ " میں کوئی معاوضہ نہ لوں گا۔چاہے مجھے درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑے میں گزارہ کروں گا اور تبلیغ کروں گا۔" ہوگی۔ایک ضروری ہدایت حضور نے یہ دی کہ واقفین کو ہر ہفتہ باقاعدگی سے اپنی رپورٹ بھیجوانی HA تحریک " وقف زندگی کی بنیاد گو حضرت اقدس علیہ السلام ہی کے ہاتھ سے رکھی گئی۔مگر حضور کی زندگی میں اپنے نام پیش کرنے والے واقفین کو اندرون ملک یا بیرون ملک میں بغرض تبلیغ مقرر کرنے کی نوبت نہیں آسکی۔تاہم حضور کے مشاء مبارک کی تکمیل خلافت ثانیہ کے زمانہ میں ہوئی جس کا تفصیل کے ساتھ ذکر انشاء اللہ تعالی خلافت ثانیہ کے عہد کے واقعات میں کیا جائے گا۔آریہ سماج لاہور وچھووالی کی مذہبی کانفرنس کے لئے حضرت اقدس کا مضمون آریہ سماج لاہور وچھو والی نے نو میرے ۱۹۰ ء میں اپنے تیسویں ۲۳ سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ایک نے ہی کانفرنس منعقد کرنے کا اشتہار دیا اور لکھا کہ مختلف مذاہب کے دوران نہایت مہنہ بانہ رنگ میں اس سوال پر روشنی ڈالیں گے کہ کیا کوئی کتاب الہامی ہو سکتی ہے۔اور اگر ہو سکتی ہے تو کون سی؟