تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 525 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 525

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۴۹۰ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی ہلا کہ مسیح موعود عافاه الله واید مرقومه ۱۵/ اپریل ۱۹۰۷ء یکم ربیع الاول ۱۳۲۵ھ " * اس دعائے مباہلہ کی اشاعت پر مولوی ثناء اللہ صاحب کا مباہلہ سے انکار و فرار مولوی ثناء اللہ صاحب کو اپنی موت نظر آنے لگی اور انہیں یقین ہو گیا کہ اگر میں مقابلہ پر موکد عذاب قسم کھاؤں گا تو ہلاک ہو جاؤں گا۔چنانچہ انہوں نے نہایت لجاجت سے لکھا کوئی ایسا نشان رکھاؤ جو ہم بھی دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔مر گئے تو کیا دیکھیں گے۔" "میرا مقابلہ تو آپ سے ہے۔اگر میں مرگیا تو میرے مرنے سے اور لوگوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے جب کہ (بقول آپ کے ) مولوی غلام دستگیر قصوری مرحوم مولوی اسمعیل علی گڑھی مرحوم اور ڈاکٹر ڈوئی امریکن اسی طرح سے مرگئے تو کیا لوگوں نے آپ کو سچا مان لیا ہے۔ٹھیک اسی طرح اگر یہ واقعہ tt بھی ہو گیا تو کیا نتیجہ۔" نیز لکھا۔یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔" تمہاری یہ دعا کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔" پھر ساتھ ہی نائب ایڈیٹر کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہ بھی شائع کیا کہ :- " قرآن تو کہتا ہے کہ بدکاروں کو خدا کی طرف سے مہلت ملتی ہے۔سنو مَنْ كَانَ فِي الضَّلَالَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمَنُ مَدًّا )) (((۸) اور اِنَّمَا نَعَلى لَهُمْ لِيَزْدَ ا دُو إِثْمَا ( ۹۴۳) اور وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (پ ۳ ۸۴)۔۔۔جن کے صاف یہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے دغا باز مفسد اور نا فرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تاکہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کرلیں۔" مولوی صاحب نے نائب ایڈیٹر کے اس بیان کو درست تسلیم کیا اور اخبار میں ہی شائع کیا کہ ” میں اس کو صحیح جانتا ہوں۔جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے نزدیک بھی جھوٹے دغا باز مفسد اور نا فرمان کی لمبی عمریں ہوا کرتی ہیں تاکہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام ۳۵ کرلیں۔مولوی ثناء اللہ نے مرقع قادیانی بابت ماہ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ 9 میں یہ بھی لکھا "آنحضرت علیہ السلام باوجود سچا نبی ہونے کے مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال کر گئے۔مسیلمہ باوجود کاذب ہونے کے