تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 522 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 522

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۸۷ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی بلاکت مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کے جواب میں لکھا۔چونکہ یہ خاکسار نہ واقع میں اور نہ آپ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ یا الہامی ہے اس لئے ایسے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا۔میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ان باتوں پر جرات نہیں۔" مولوی شاء اللہ صاحب کی پھر مباہلہ پر اس انکار کے بعد انہوں نے اہل حدیث “ میں آمادگی اور اس کی منظوری کا اعلان دوبارہ مہالمہ پر آمدگی کا اعلان شائع کیا۔1 جس پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب " ایڈیٹر اخبار بدر قادیان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم سے اس چیلنج کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ۔" ۲۵ مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ مرزا صاحب نے ان کے اس چیلنج کو منظور کر لیا ہے۔وہ بے شک قسم کھا کر بیان کریں کہ یہ شخص (یعنی حضرت مسیح موعود۔ناقل ) اپنے دعوئی میں جھوٹا ہے اور بے شک یہ بات کہیں کہ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو لعنتہ اللہ علی الکا زمین۔مباہلہ کی بنیاد جس آیت قرآنی پر ہے اس میں تو صرف لعنتہ اللہ علی الکا زمین ہے۔" البتہ ان کے مقام مباہلہ کے بارہ میں لکھا کہ قرآن کریم نے فتنہ سے بچنے کی تاکید کی ہے۔امر تسریا بٹالہ میں مباہلہ کے لئے جمع ہونا فتنہ کو برپا کرنا ہے۔کیا ان کو ۱۹۰۵ ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر امرتسر میں پتھر برسائے جانے کا واقعہ بھول گیا ہے ؟ کیا اس شہر میں اب مباہلہ تجویز ہو نا مناسب ہے؟ اگر آپ نے امر تسریا بٹالہ کو مقام مباہلہ تجویز کرنے میں گریز کی بنیاد نہیں رکھی تو پھر کیا حرج ہے کہ تحریری مباہلہ ہو جائے۔لیکن اگر ان کو زبانی مباہلہ پر ہی اصرار ہے تو ہمیں یہ بھی منظور ہے وہ قادیان شریف لے آئیں۔ان کو دس افراد ساتھ لانے کی اجازت ہے۔ان کو اخراجات سفر بھی ادا کر دئے جائیں گے اور حفظ امن کی ذمہ داری ہم پر ہوگی۔مبالہ کرنے سے پہلے ہمارا حق ہو گا کہ ہم دو گھنٹہ تک اپنے دعاوی اور ثبوت کی تبلیغ کریں اور مولوی صاحب خاموشی سے سنتے رہیں اور بعد میں وہ حلفاً اعلان کریں کہ میں اس تبلیغ کے سننے کے بعد بھی مرزا غلام احمد کے دعاوی کو صحیح نہیں سمجھتا۔اگر آخر الذکر مباہلہ کو مولوی ثناء اللہ صاحب پسند کریں تو جب چاہیں وہ آسکتے ہیں۔مسودہ مباہلہ کی اشاعت حضرت اقدس کے قلم سے اب مولوی ثناء اللہ صاحب خوف زدہ ہو کر مباہلہ کی بجائے قسم پر آمادہ ہوئے جس پر آپ کو تحریک ہوئی۔کہ آپ خود ہی مسودہ مباہلہ شائع فرما ئیں۔