تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 519 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 519

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۸۴ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی ہلاکت اخبار "شجھ چتک" کی تکذیب اور اخبار "شجھ چتک" نے حضرت اقدس" کی اس تقریر یر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ قادیان کے آریہ اور ہم" کی تصنیف بالکل کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا اور نہ یہ لالہ صاحبان ہی ان کے گواہ ہیں چنانچہ اس پر حضور نے ایک فیصلہ کن رسالہ ”قادیان کے آریہ اور ہم " کے نام سے ۲۰/ فروری ۱۹۰۷ء کو شائع فرمایا۔اس رسالہ میں حضور نے بطور نمونہ چند نشانات پیش کر کے ملاد امل اور لالہ شرمیت کو چیلنج دیا کہ وہ خدا کی قسم کے ساتھ مجھ سے فیصلہ کریں اور خواہ مقابل پر اور خواہ تحریر کے ذریعہ سے اس طرح پر خدا کی قسم کھا ئیں کہ فلاں فلاں نشان جو نیچے لکھے گئے ہیں ہم نے نہیں دیکھے۔اور اگر ہم جھوٹ بولتے ہیں تو خدا ہم پر اور ہماری اولاد پر اس جھوٹ کی سزا نازل کرے۔نیز لکھا کہ " یہ لوگ اس طرح پر قسم نہ کھائیں گے بلکہ حق پوشی کا طریق اختیار کریں گے اور سچائی کا خون کرنا چاہیں گے۔تب بھی میں امید رکھتا ہوں کہ حق پوشی کی حالت میں ہی خدا ان کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔کیوں کہ خدا تعالی کی پیش گوئی کی بے عزتی خدا کی بے عزتی ہے۔" اخبار "شجھ چتک" کے عملہ کی طاعون سے ہلاکت اس ماہ یعنی فروری ۱۹۰۷ء میں جب کہ یہ کتاب شائع ہوئی اچھر چند مینجر اخبار اور سیکرٹری آریہ سماج قادیان نے ایڈیٹر الحکم شیخ یعقوب علی صاحب تراب سے ایک گفتگو کے دوران میں کہا کہ میں بھی مرزا صاحب کی طرح دعوی کرتا ہوں کہ طاعون سے کبھی نہیں مروں گا۔خدا کی قدرت! چند روز کے اندر اندر "شبھ چتک" کا پورا عملہ طاعون کا شکار ہو گیا اور خدا کے اس قہرنے ان کی اولاد اور اہل و عیال کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔چنانچہ سب سے پہلے سو مراج اور بھگت رام کی زینہ اولاد لقمہ طاعون ہوئی پھر بھگت رام اور اچھر چند چل ہے۔باقی رہا سو مراج وہ بھی اپنے گھر اور اپنے جگری دوستوں کی تباہی وبربادی کا دردناک نظارہ دیکھنے کے بعد سخت بیمار ہو گیا۔اس نے گھبرا کر حکیم مولوی عبید اللہ صاحب بسمل کو کہلا بھیجا کہ میں بیمار ہوں آپ مہربانی فرما کر علاج کریں۔مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں ایک عریضہ لکھ کر پوچھا کہ سو مراج نے مجھ سے علاج کرنے کے لئے درخواست کی ہے حضور کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے؟ حضرت مسیح موعود نے جواب میں فرمایا " آپ علاج ضرور کریں کیوں کہ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے مگر میں آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ یہ شخص بچے گا نہیں۔" چنانچہ حکیم بسمل صاحب کے ہمدردانہ ردیہ کے باوجود سو مراج کی حالت بد تر ہوتی گئی اور وہ آخر دوسرے روز ۴ بجے کے قریب اپنے ا