تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 518
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ WAY طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی بلاکت پیش گوئی ہر لحاظ سے لفظاً لفظاً پوری ہو گئی۔قادیان کے آریوں کی گندہ دہنی اور تصنیف و اشاعت رسالہ " قادیان کے آریہ اور ہم " 33 قادیان کے آریہ سماج اگر چہ ابتداء ہی سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زور شور سے مخالفت کرتے آرہے تھے مگر ۶ - ۱۹۰۵ ء میں ان کی شوخی اور بے باکی انتہاء کو پہنچ گئی۔ایک تو انہوں نے مدرسہ تعلیم الاسلام" کو ناکام کرنے کے لئے دیا نند جوبلی سکول کھولا۔دوسرے سلسلہ احمدیہ کو بد نام کرنے اور اس کے مقدس پیشوا کی ہتک کے لئے قادیان سے "شجھ چتک" کے نام سے ایک اخبار جاری کیا۔سو مراج اس اخبار کا ایڈیٹر مقرر ہوا۔اچھر چند اس کا مینجر اور بھگت رام اس کا بھائی سرگرم معاون! اس اخبار نے گالیوں اور گستاخیوں کی حد کر دی۔بعد ازاں تیسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ عین جلسہ سالانہ (۲۷/ دسمبر ۱۹۰۶ء) کے موقعہ پر جب کہ حضرت اقدس اپنے دو ہزار کے قریب فدائیوں اور جاں نثاروں کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں مصروف نماز تھے ایک زبان دراز آریہ نے حضور اور حضور کے خدام کو نہایت مغلظ گالیاں دینا شروع کر دیں اور جب تک نماز جاری رہی وہ دریدہ دہن بھی برابر بد زبانی کرتا اور گند اچھالتا رہا۔اور یہ سب کچھ بٹالہ کے ڈپٹی انسپکٹر پولیس کی موجودگی میں ہوا۔حضرت اقدس کی طرف سے صبر کی نماز ختم ہوئی تو حضور نے یہ دیکھ کر ان گالیوں نے بہت سے دلوں کو مجروح کیا ہے بڑی مئوثر تلقین اور آریوں پر اتمام حجت تقریر فرمائی جس کا ملخص یہ تھا کہ سب رنج و غم دلوں سے نکال دو۔خدا تعالی دیکھتا ہے اور وہ ظالم کو آپ سزا دے گا اور قادیان کے ہندو سب سے زیادہ خدا کے غضب کے نیچے ہیں کیوں کہ انہوں نے خدا کا یہ عظیم الشان نشان دیکھا ہے کہ آج سے چھبیس سال قبل جب کہ میں بالکل گوشہ گمنامی میں تھا خدا نے مجھے یہ خبر دی تھی کہ ہزاروں لاکھوں انسان ہر ایک راہ سے تیرے پاس آدیں گے یہاں تک کہ سڑکیں گھس جائیں گی اور ہر ایک راہ سے مال آئے گا۔یہ پیش گوئی کس شان سے پوری ہو رہی ہے۔قادیان کے آریہ بالخصوص لالہ شرمیت اور ملاوائل اس پر گواہ ہیں۔پس قادیان کے آریوں پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہو چکی ہے مگر یہ لوگ پھر بھی اس زبر دست طاقتوں والے خدا سے نہیں ڈرتے جو ایک دم میں معدوم کر سکتا ہے۔