تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 509 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 509

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۷۴ حقیقته الومی " کی تصنیف و اشاعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی طرف سے یہ نا انصافی دیکھی تو ان کو دوبارہ دعوت مباہلہ دی اور مباحثہ کے متعلق مفتی محمد صادق صاحب نے لکھا کہ حضرت اقدس اپنی کتاب "انجام آتھم " میں مباحثات بند کر چکے ہیں۔ہاں اگر مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی اپنے شبہات کا ازالہ کرانا چاہیں تو وہ مہذب رنگ میں درخواست کریں اور بتائیں کہ حضور کا دعویٰ قرآن مجید کے کن نصوص قطعیہ کے خلاف ہے ؟ مگر عبد اللہ صاحب چکڑ والوی اس تجویز سے آمادہ نہ ہوئے اور شیخ محمد چٹو صاحب اس کے بعد جلد ہی اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے۔نکاح حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی دوسری بیوی محترمہ امتہ الحمید بیگم کا ۲۷۔اکتوبر ۱۹۰۶ ء کو انتقال ہوا تھا۔ان کی وفات کے بعد حضرت نواب صاحب اپنی اکلوتی بیٹی بو زینب بیگم صاحبہ کی شادی کے متعلق بہت متفکر تھے۔خود حضرت مسیح موعود کو بھی اس معاملہ میں بہت خیال تھا اور اکثر فکر کے ساتھ اس کا گھر میں ذکر فرمایا کرتے تھے۔ایک روز حضرت اقدس کو اس طرف خاص توجہ پیدا ہو گئی۔حضور نے صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے متعلق حضرت نواب صاحب کو پیغام دیا جسے انہوں نے بسر و چشم قبول کر لیا۔حضرت نواب صاحب کے غیر احمدی بھائی اور دوسرے عزیز بہت ناراض ہوئے مگر حضرت نواب صاحب نے اس کی قطعا پروانہ کی اور فرمایا۔"اگر شریف احمد ٹھیکرالے کر گلیوں میں بھیک مانگ رہا ہوتا اور دوسری جانب ایک بادشاہ رشتہ کا خواست گار ہو تاتب بھی میں شریف احمد ہی کو بیٹی دیتا۔"aam ۱۵ نومبر ۱۹۰۶ء (بمطابق ۲۷ / رمضان المبارک ۱۳۲۴ھ ) بعد نماز عصر نئے مہمان خانے کے صحن میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے نکاح کی مبارک تقریب عمل میں آئی۔اس تقریب پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے قادیان میں موجود خدام موجود تھے۔حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب نے ایک ہزار روپیہ صر پر نکاح پڑھا اور ایک لطیف اور نکاح پر از معارف خطبہ ارشاد فرمایا۔شادی۔fe حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی شادی ۹۔مئی 1909ء کو ہوئی اور ولیمہ 10۔مئی 1909ء کو۔P3- حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا بیان ہے کہ " بو زینب بیگم صاحبہ کار خصمانہ نہایت سادگی سے ہمارے دار المسیح سے ملحق مکان سے عمل میں آیا۔حضرت اماں جان نے سامان کپڑا زیور وغیرہ ہمارے