تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 504
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۶۹ حقیقه صنیف و اشاعت حضرت مسیح موعود کو پادری احمد آخر جب دلائل و براہین کے ذریعہ سے حجت مسیح کی دعوت مباہلہ اور حضور کی پوری ہو گئی تو میر قاسم علی صاحب نے پادری احمد مسیح کو مباہلہ کے لئے للکارتے ہوئے ۱۲ / طرف سے منظوری کا اعلان اپریل ۱۹۰۶ء کو ایک اشتہار شائع کیا۔پادری احمد مسیح نے اس کے جواب میں اشتہار لکھا کہ " مباہلہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سے ہو گا۔" یہ اشتہار حضور کی خدمت میں ۱۲ جون ۱۹۰۶ ء کو پہنچا جس پر حضور نے ۵ / جون ۱۹۰۶ء کو درخواست >1 مباہلہ منظور" کے عنوان سے مفصل اشتہار دیا کہ دہلی کے سوا دوسری جگہ کے تو شاید احمد مسیح کے نام سے بھی واقف نہ ہوں پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک گم نام آدمی سے مباہلہ کا کیا فائدہ ہو گا۔وہ اپنے مباحثہ کا اثر صرف اپنی ہی ذات تک مانتا ہے تو مباہلہ کا اثر اس کی قوم پر کیوں کر سمجھا جاوے گا۔اور علاوہ بریں وہ تو پہلے ہی سے اندھا ہے اور احمد صیح اپنے اس درخواست میں کوئی وجہ نہیں بتاتا کہ میر قاسم علی صاحب سے کیوں مباہلہ نہیں کرتا جب کہ مباحثہ اس سے کیا ہے۔۔۔احمد مسیح کو اگر مباہلہ کرنا ہی ہے تو وہ میرے مرید میر قاسم علی صاحب سے بطور خود کرے جس نے اس کو دعوت کی ہے۔لیکن اگر میرے ساتھ ہی مباہلہ ضروری ہے تو میں اس کی درخواست کو اس صورت میں منظور کر سکتا ہوں جب لاہور کلکتہ مدراس اور بمبئی کے بشپ صاحبان (جو اپنے عمدہ واقفیت ، رسوخ اور اثر کی وجہ سے زیادہ قابل قدر ہیں) ایسی درخواست کریں۔کیوں کہ اس صورت میں مباہلہ کا اثر تمام قوم پر ہو گا نہ کہ فرد واحد پر۔" چھ روز کے بعد حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے حق و باطل کے فیصلہ کی غرض سے یہ اعلان بھی کر دیا کہ آپ پادری احمد مسیح سے براہ راست بھی مباہلہ کرنے کو تیار ہیں بشرط یہ کہ چاروں بشپ صاحبان یا پھر کم از کم لاہور کے بشپ صاحب ہی اخبار پاؤ نیر" یا "سول" میں اپنی طرف سے شائع کر دیں کہ احمد مسیح کا مغلوب ہونا ہمارا مغلوب ہونا سمجھا جائے گا۔مگر پادری احمد صیح صاحب جو قبل ازیں مباحثہ میں اپنی شکست کو خود اقرار کر چکے تھے درخواست مباہلہ کر کے فرار اختیار کر گئے اور عیسائی دنیا پر ایک بار پھر حجت تمام ہوئی۔صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب کی ولادت اور وفات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قریباً ۱۸۶۵ء سے الہام ہو چکا تھا کہ تری نسلا بعید ا یعنی تو دور کی نسل بھی دیکھے گا۔۲۶۔دسمبر ۱۹۰۵ء اور اپریل ۱۹۰۶ء میں وحی نازل ہوئی "انا