تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 503 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 503

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۶۸ حقیقت الوحی " کی تصنیف و اشاعت آخر میں بطور ضمیمہ شامل فرمایا۔"الاستفتاء " میں حضور نے نہایت درجہ درد کے ساتھ اپنی تائید میں نشانات سماوی کے ظہور کی مثالیں دے دے کر ان سے فتویٰ طلب فرمایا ہے کہ کیا ایسا انسان بھی مفتری قرار دیا جاسکتا ہے جس کی تائید میں آسمانی نشانات بکثرت نازل ہو رہے ہوں ؟ یادری احمد مسیح کی مباحثہ میں ناکامی اور مباہلہ سے گریز دہلی میں ایک صاحب احمد مسیح تھے جو بشپ جارج ایلفرڈ لیفرائے کے ذریعہ سے اسلام چھوڑ کر عیسائی ہو گئے تھے۔پادری صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص مرید میر قاسم علی صاحب سیکرٹری انجمن احمد یہ دہلی سے مباحثہ ہو ا جس کا موضوع تھا۔" آیا مسیح علیہ السلام واقعی صلیب پر قتل ہوئے یا نہیں ؟ " میر صاحب نے پر زور دلائل سے ثابت کر دیا کہ مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ صلیب سے زندہ سلامت اترے اور اپنی طبعی عمر پا کر کشمیر میں آکر مرے اور یہیں دفن ہوئے۔مباحثہ کے چیئرمین مسٹر مارٹن تھے۔اس مباحثہ میں پادری احمد مسیح کو یہاں تک شکست فاش ہوئی کہ نہ صرف سامعین نے بالاتفاق تسلیم کیا کہ پادری احمد مسیح صاحب بالکل لاجواب ہو گئے بلکہ خود پادری صاحب کو اپنی تقریر میں اقبال کرنا پڑا کہ میں ہار گیا ہوں۔چنانچہ انہوں نے کہا ” صاحبو! میرا ہار جانا ایسا نہیں ہے جو میرے لئے باعث ندامت ہو کیوں کہ میں تو سرے سے اندھا ہوں اور اندھے بے حیا ہوتے ہیں۔شرم و حیا کے محسوس کرنے کے واسطے آنکھوں کی ضرورت ہے جو ندارد ہیں پر مجھے ہار جانے کا کیا غم۔" پھر کہا " آپ نے بغیر سوچے جلدی سے سید صاحب کی ڈگری تو کر دی مگر یہ نہ جانا کہ اس ڈگری دینے سے ہم کو سید صاحب کے مذہب اور عقائد کا مان لینا بھی ضروری ہو گیا۔پس میں بھی سید صاحب کو ہی ڈگری دیتا ہوں کہ آپ نے ایک کثیر جماعت سے عقائد احمدیہ کو منوالیا۔" اس اعتراف شکست کے باوجود پادری احمد مسیح نے یہ تعلی کی کہ ”اگر میں ہار گیا تو میرے پر دین مسیح کے دلائل ختم نہیں ہوئے۔میرا ہار نا قوم کا ہارنا نہ سمجھا جائے اور لوگ مسیحی قوم میں بڑے بڑے فاضل ہیں وہ ہر ایک بحث کو بخوبی طے کر سکتے ہیں۔" میر قاسم علی صاحب نے کھلا چیلنج دیا کہ کوئی نامی گرامی پادری صاحب میدان مقابلہ میں آئیں میں | (+ ان سے بھی مباحثہ کرنے کے لئے تیار ہوں مگر کسی پادری کو سامنے آنے کی جرات نہ ہو سکی۔