تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 502 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 502

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۶۷ "حقیقت الوحی " کی تصنیف و اشاعت کتاب کے چار باب وچی کی حقیقت واضح کرنے کے لئے حضور نے یہ کتاب چار ابواب میں تقسیم فرمائی۔باب اول ان لوگوں کے بیان میں جن کو بعض سچی خوا ہیں آتی ہیں یا بعض بچے الہام ہوتے ہیں لیکن ان کو خداتعالی سے کچھ بھی تعلق نہیں۔باب دوم ان لوگوں کے بیان میں جن کو بعض اوقات کچی خوابیں آتی ہیں یا بچے الہام ہوتے ہیں اور ان کو خدا تعالٰی سے کچھ تعلق ہے لیکن بڑا تعلق نہیں۔باب سوم ان لوگوں کے بیان میں جو خدا تعالٰی سے اکمل اور اصفی طور پر وحی پاتے ہیں اور کامل طور پر شرف مکالمہ اور مخاطبہ ان کو حاصل ہوتا ہے اور خواہیں بھی ان کو فلق الصبح کی طرح کچی آتی ہیں اور خدا تعالٰی سے اکمل اور اتم اور اصفی تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ خدا تعالٰی کے پسندیدہ نبیوں اور رسولوں کا تعلق ہوتا ہے۔باب چہارم حضور کے اپنے حالات کے بیان میں کہ خدا تعالٰی کے فضل اور کرم نے حضور کو ان اقسام ثلاثہ میں سے کس قسم میں داخل فرمایا ہے؟ سوالات کے جوابات اور تعریف نبوت میں تبدیلی کا واضح ترین بیان شاه جهان پور میں ایک عالم ابو یکی مولوی محمد صاحب رہتے تھے۔جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ( حافظ سید مختار احمد صاحب شاہ جہان پوری کے توسط سے نو سوالات لکھ کر بھیجوائے اور نہایت انکسار سے ان کے جواب کی درخواست کی۔اپنے خط میں انہوں نے مصلح اپنا نام منشی برہان الحق " لکھا۔2 حقیقته الوحی ان دنوں زیر تصنیف تھی اس میں مولوی محمد صاحب کے سوالات کے بھی مفصل جواب دئے۔حضرت اقدس کی طرف سے دئے ہوئے سب ہی جوابات اپنے اندر ایک خاص شان رکھتے تھے۔مگر پہلے سوال کے جواب کو یہ بھاری خصوصیت حاصل تھی کہ حضور نے اس میں ایک غلطی کا ازالہ " کے بعد تعریف نبوت میں تبدیلی کا دوسری بار واضح ترین اعلان فرمایا۔نیز آیت و اخرین منهم لما يلحقوا بهم (سورۃ الجمعہ) کی تفسیر لکھتے ہوئے لکھا۔اس سے یہ ثابت ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہو گا کہ وہ آنحضرت ا کا بروز ہو گا۔۔۔۔بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیش گوئی ہے۔ہر ایک جانتا ہے کہ منہم کی ضمیر اصحاب ان کی طرف راجع ہے لہذا وہی فرقہ منعم میں داخل ہو سکتا ہے جس میں ایسار سول موجود ہو کہ جو آنحضرت کا بروز ہے۔" حضرت اقدس علیہ السلام نے اسلام اور فقہائے ملت خیر الانام تک دعوت حق پہنچانے الاستفاء کے لئے فصیح و بلیغ عربی میں ایک رسالہ " الاستفتاء "لکھا اور اسے "حقیقتہ الوحی" کے