تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 37
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ کے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی بغاوت کا الزام محسن افتراء ہے اور مطالبہ کیا کہ گورنمنٹ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے جواب طلب کرے کہ کس کتاب یا اشتہار میں میں نے ایسا الہام شائع کیا ہے۔اس رسالہ میں حضور نے بيقولى " جَزَاء سَيِّئَةٌ بِمِثْلِهَا " کے ظہور کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے حکومت کو اس طرف بھی توجہ دلائی کہ جو شخص اپنے انگریزی رسالہ میں حکومت کو خوش کرنے کے لئے کچھ بتاتا ہے اور اپنے ہم مسلک علماء پر ان کے عقیدہ کے مطابق اپنا عقیدہ ظاہر کرتا ہے۔ایسے فاش جھوٹ کی موجودگی میں کیونکر اطمینان ہو کہ جو دوسری باتیں گورنمنٹ کو پہنچاتا ہے ان میں سچ بولتا ہے۔حضرت پولیس کا محاصرہ اور مولوی محمد حسین صاحب کا مقدمہ حفظ امن مسیح موعود علیہ السلام برسوں سے جو بغاوت کا الزام کا رد کرتے آرہے تھے گورنمنٹ نے اس کی طرف تو کوئی توجہ نہ کی مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے خفیہ انگریزی رسالہ کی اشاعت پر انہیں چار مربعوں سے نوازا اور ان کی مخبریوں پر حضرت اقدس کے خلاف اس کی مشینری فوری حرکت میں آگئی۔چنانچہ انگریز کپتان پولیس اور انسپکٹر پولیس را نا جلال الدین صاحب) سپاہیوں کا ایک دستہ لے کر اکتوبر کے آخر میں بوقت شام قادیان پہنچ گئے اور سپاہیوں نے حضرت اقدس کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔کپتان اور انسپکٹر پولیس مسجد کے کوٹھے پر چڑھ گئے۔حضور اطلاع ملنے پر باہر تشریف لائے تو کپتان پولیس نے کہا ہم آپ کی خانہ تلاشی کرنے آئے ہیں۔ہم کو خبر ملی ہے کہ آپ امیر عبد الرحمن خاں والی افغانستان سے خفیہ ساز باز رکھتے اور خط و کتابت کرتے ہیں۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ " یہ بالکل غلط ہے ہم تو گورنمنٹ انگریزی کے عدل و انصاف اور امن اور مذہبی آزادی کے بچے دل سے معترف ہیں اور ہم اسلام کو بزور شمشیر پھیلانے کو ایک بہتان عظیم سمجھتے ہیں لیکن اگر آپ کو شک ہے تو آپ بیشک ہماری تلاشی لے لیں۔البتہ ہم اس وقت نماز پڑھنے لگے ہیں اگر آپ اتنا توقف کریں تو بہت مہربانی ہو گی"۔کپتان پولیس نے کہا کہ آپ نماز پڑھ لیں پھر تلاشی ہو جائے گی۔چنانچہ سب سے قبل حضرت مولانا عبد الکریم صاحب نے (جو ان کی آمد پر کوٹھے پر ہی موجود تھے ) خود ہی اذان دی اور نماز مغرب پڑھائی اور پہلی رکعت میں سورہ بقرہ کا آخری رکوع پڑھا۔حضرت مولانا کی جادو بھری آواز سن کر کوئی بڑے سے بڑا دشمن اسلام مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا مگر اس دن تو اذان اور قرات دونوں میں وہ بجلیاں بھری ہوئی تھیں کہ انگریز کپتان خدا کا پر شوکت کلام سن کر محو حیرت ہو گیا اور اس کی تمام غلط فہمیاں خود بخود دور ہو گئیں۔وہ تلاشی وغیرہ کا خیال ترک کر کے نماز ختم ہوتے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور حضرت اقدس سے کہنے لگا کہ " مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ ایک راستباز اور خدا پرست انسان ہیں اور جو کچھ آپ نے