تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 35
تاریخ احمدیت جلد ؟ ۳۵ غریب استفسار کیا کہ انہوں نے یہ فتویٰ لکھتے ہوئے منکر مہدی کسے سمجھا تھا۔مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کو یا مجھے۔اگر انہوں نے مجھے سمجھا تو بتائیں کہ انہوں نے مہدی موعود سے انکار میری زبان یا تحریر میں کب پایا نیز یہ بھی سوال کیا کہ میں نے ان حضرات میں سے کسی صاحب کے پاس اس عقیدہ کا کبھی اظہار کیا کہ مہدی موعود آئے گا اور وہ عیسائیوں وغیرہ کافروں سے لڑے گا میں نے ان کے رو برو کبھی یہ کہا ہے کہ میں نے غلطی سے احادیث متعلقہ مہدی کو ضعیف کہا تھا۔وغیرہ IT اس استفسار کے جواب میں مولوی ابو عبید احمد اللہ صاحب امرتسری ، مولوی عبد الله صاحب الغنی ابو محمد زبیر غلام رسول مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی مولوی عبدالحق عزنوی اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے لکھا کہ یہ فتویٰ دیتے ہوئے ہمارے پیش نظر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نہیں تھے بلکہ مرزا صاحب تھے۔حالانکہ فتویٰ کسی خاص شخص سے متعلق نہیں ہو تا اس کی نوعیت عمومی رنگ رکھتی ہے۔اور یہ وہ حقیقت تھی جس کا اعتراف انہی علماء نے اس جواب میں کر لیا تھا۔چنانچہ اکثر علماء نے یہی لکھا کہ اگر مرزا صاحب کے علاوہ کوئی اور بھی مہدی کا منکر ہو تو اس پر ہی یہ فتوی ہو گا۔اس وضاحت نے اگر چہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے لئے ایک اور ذلت کا سامان پیدا کر دیا مگر اس ذلت کو انتہاء تک پہنچانے کے لئے ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب نے دوسرے علماء سے ایک دوسرا فتویٰ طلب کیا کہ کیا آپ حضرات نے بھی ان موادی صاحبان کی طرح دھوکہ سے مہریں یا دستخط کفر نامہ پر لگائے ہیں یا عموی فتویٰ دیا ہے۔اس کے جواب میں باقی علماء تو خاموش رہے مگر مولوی مفتی محمد عبداللہ صاحب ٹونکی (پروفیسر اور مینٹل کالج لاہور و پریذیڈنٹ انجمن حمایت اسلام لاہور و سیکرٹری انجمن مستشار العلماء) اور امام مسجد شاہی لاہور مولوی غلام محمد صاحب بگوی نے خدا ترسی اور دیانت داری کا ثبوت دیتے ہوئے صاف لکھ دیا کہ ہمار ا فتویٰ کسی خاص آدمی کے متعلق نہیں۔ایسا مسلک رکھنے والا آدمی خواہ زید ہو یا بکر اہل سنت و الجماعت سے بہر نوع خارج ہے چنانچہ مفتی محمد عبد اللہ صاحب نے جواب دیا " میں نے اس جواب دینے میں کسی قسم کا دھو کہ یا فریب نہیں کھایا اور میرے نزدیک اس وقت بھی استفتائے مذکور کا یہی جواب ہے اور میں اس شخص کو جس کا استفتائے مذکور میں ذکر ہے اس وقت بھی مسلک اہل سنت و الجماعت سے منحرف جانتا ہوں خواہ وہ زید ہو یا بکر۔مولوی غلام محمد صاحب بگوی نے لکھا۔” جو استفتاء مطبوعہ مورخہ ۲۹/ دسمبر ۱۸۹۸ء مطابق ۱۵/ شعبان ۱۳۱۶ھ معرفت ڈاکٹر محمد اسمعیل خان مثبت بہ مواہیر اور دستخط علمائے امرتسر تھا میرے روبرو پیش ہوا۔اس کے اوپر میں نے یہ عبارت لکھی ہے۔علمائے عظام کا جواب صحیح ہے بیشک شخص مذکور السوال ضال "