تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 466
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ رسالہ حمید الاذہان کا اجراء ثناء اللہ صاحب جیسے معاند بھی یہ سمجھنے لگے تھے کہ حضور کی وفات کا وقت اب قریب آگیا ہے۔پس عبد الحکیم کی پیش گوئی کرنا محض سرقہ ، شرارت اور چالا کی کا ایک مظاہرہ تھا۔ڈاکٹر عبدالحکیم کا جھوٹا ہونا کھل گیا ڈاکٹر عبدالحکیم کی اس آخری خود ساختہ پیش گوئی کے " در حقیقت دو اجزاء تھے۔اول۔حضرت اقدس ۳/ اگست تک یقینی طور پر زندہ رہیں گے۔دوم - ۴ / اگست ۱۹۰۸ء کو بہر حال فوت ہو جائیں گے۔خدائے حکیم و خبیر نے جو اپنے پیارے مسیح سے یہ وعدہ کر چکا تھا کہ میں دشمنوں کو جھوٹا کروں گا۔عبدالحکیم کی پیش گوئی کے دونوں اجزاء کو یوں باطل کر دیا کہ حضور اپنے بعض گزشتہ الہامات کی بناء پر ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو انتقال فرما گئے اور صاف طور پر واضح کر دیا کہ عبدالحکیم کاذب و مفتری انسان ہے۔حقیقت اتنی واضح اور نمایاں تھی کہ پیسہ اخبار " کے ایڈیٹر کے علاوہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی اس کا اقرار کیا۔چنانچہ لکھا " ہم خدا لگتی کہنے سے رک نہیں سکتے کہ ڈاکٹر صاحب اگر اسی پر بس کرتے یعنی چودہ ماہیہ پیش گوئی کر کے مرزا کی موت کی تاریخ مقرر نہ کر دیتے جیسا کہ انہوں نے کیا۔چنانچہ ۱۵۔مئی ۱۹۰۸ء کے اہل حدیث میں ان کے الہامات درج ہیں کہ ۲۱ / ساون یعنی ۴/ اگست کو مرزا مرے گا تو آج وہ اعتراض نہ ہوتا جو معزز ایڈیٹر پیسہ اخبار نے ڈاکٹر صاحب کے اس الہام پر چبھتا ہوا کیا ہے کہ ۲۱ / ساون کو کی بجائے ۲۱ / ساون تک ہو تا تو خوب ہو تا۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد عبدالحکیم نے پیش گوئی کی کہ (۱) یعقوب ( مراد شیخ یعقوب علی صاحب تراب۔ناقل) کی موت قریب ہے۔(۲) مولوی نور الدین صاحب / جنوری ۱۹۱۱ء تک فوت ہو جائیں گے مگر یہ مفتریا نہ بات بھی سرا سر غلط نکلی۔" عبرت ناک موت عبد الحکیم نے ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۶ء کو اپنا یہ الہام شائع کیا کہ ”مرزا پھیپھڑے کے مرض سے ہلاک ہو گیا۔" حضرت اقدس کو تو باوجود انتہائی علمی مشاغل و مصروفیات کے خدا نے اس مرض سے محفوظ رکھا مگروہ خود یکم جون ۱۹۲۰ء کی شب کو گمنامی کی حالت میں سل کی مرض میں چند ماہ مبتلا رہ کر اپنے الہامات کی صریح ناکامی اور سلسلہ احمدیہ کی کامیابی دیکھتا ہوا چل بسا۔عبد الحکیم کو بیماری اور موت کی حالت میں دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ نہایت ہی خوف ناک اور دل ہلا دینے والا نظارہ تھا۔مرنے سے پہلے ہی بہت تعفن پیدا ہو گیا تھا اور موت کے بعد تو یہ حالت تھی کہ کوئی شخص غسل تک دینے کو تیار نہیں ہو تا تھا۔