تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 465 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 465

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ رسالہ حمید الاذہان کا اجراء نافرمانیوں کی سزا میں سہ سالہ میعاد میں سے جو ا / جولائی ۱۹۰۹ء کو پوری ہوئی تھی دس مہینے اور گیارہ دن کم کر دئے اور مجھے یکم جولائی ۱۹۰۷ء کو الہا نا فرمایا " مرزا آج سے ۱۴ ماہ تک، سزائے موت ہادیہ میں گرایا جائے گا۔" حضرت مسیح موعود کا اشتہار اللہ تعالی نے حضور کو بتایا کہ دشمن اپنی اس خبر میں بھی ناکام و نا مراد رہے گا۔چنانچہ آپ نے اس خدائی بشارت کے ماتحت ۵ نومبر۷ ۱۹۰ء کو ایک اور اشتہار دیا جس میں یہ خدائی وعدہ شائع کیا کہ دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی کے ۱۹۰ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔" نیز فرمایا " یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن کے ساتھ غضب اور عقوبت کا وعدہ کیا ہے مگر میری نسبت لکھا ہے کہ "دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا اور نصرت اور فتح تیرے شامل حال ہو گی۔" پیش گوئی کی بار بار منسوخی اس اشتہار کے بعد ڈاکٹر عبد الحکیم نے اپنی دوسری پیش گوئی کو بھی منسوخ قرار دے کر ایک تیسری پیش گوئی شائع کی کہ " مرزا ۲۱ سادن ۱۹۴۵ مطابق (۴ / اگست ۱۹۰۸ء) تک ہلاک ہو جائے گا۔" مگر عبد الحکیم اس تیسری پیش گوئی پر بھی قائم نہ رہا اور ۴ / اگست ۱۹۰۸ء مطابق ۲۱ سادن ۱۹۴۵ تک کی میعاد بھی منسوخ کی گئی۔عبدالحکیم کی نئی پیش گوئی اب عبد الحکیم نےاپنی تیسری پیش گوئی کو بھی مضوع کرتے ہوئے ایک نئی اور آخری پیش گوئی یہ شائع کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ۴/ اگست تک نہیں ۴/ اگست کو واقع ہو گی۔چنانچہ لکھا۔لکھا۔10 " مرزا ۲۱ / ساون سمت ۱۹۴۵ کو مرض ملک میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔" مولوی ثناء اللہ نے اپنے اخبار " اہل حدیث" میں ڈاکٹر عبدالحکیم کے یہ الہامات شائع کر کے ہ ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ ہمارا اس خبر کے شائع کرنے سے دل دکھتا ہے مگر کیا کریں واقعات کا اظہار ہے۔ہمارا ما تھا تو اس وقت اس بد خبر کے سننے کے لئے ٹھنکا تھا جب مرزا صاحب نے اپنا آخری وصیت نامہ شائع کیا تھا۔" ان الفاظ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم کی اس طرز کی پیش گوئیوں میں کوئی قدرت و ندرت کا اظہار نہیں تھا بلکہ جب سے حضور علیہ السلام نے وصیت شائع فرمائی مولوی