تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 463 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 463

تاریخ احمدیت جلد ۲ رسالہ حمید الاذہان کا اجراء لیں۔نیز " حقیقتہ الوحی " میں اس کے اس عقیدہ کا ابطال کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اعلان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اعلان کا مکمل متن یہ تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی على رسوله الكريم تمام جماعت احمدیہ کے لئے اعلان چونکہ ڈاکٹر عبدالحکیم اسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے جو پہلے اس سلسلہ میں داخل تھا نہ صرف یہ کام کیا کہ ہماری تعلیم سے اور ان باتوں سے جو خدا نے ہم پر ظاہر کیں منہ پھیر لیا بلکہ اپنے خط میں وہ سختی اور گستاخی دکھلائی اور وہ گندے اور ناپاک الفاظ میری نسبت استعمال کئے کہ بجز ایک سخت دشمن اور سخت کینہ ور کے کسی کی زبان اور قلم سے نہیں نکل سکتے۔اور صرف اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ بے جا تہمتیں لگائیں اور اپنے صریح لفظوں میں مجھ کو ایک حرام خور اور بندہ نفس اور شکم پرور اور لوگوں کا مال فریب سے کھانے والا قرار دیا اور محض تکبر کی وجہ سے مجھے پیروں کے نیچے پامال کرنا چاہا۔اور بہت سی ایسی گالیاں دیں جو ایسے مخالف دیا کرتے ہیں جو پورے جوش عداوت سے ہر طرح سے دو سرے کی ذلت اور توہین چاہتے ہیں۔اور یہ بھی کہا کہ پیش گوئیاں جن پر ناز کیا جاتا ہے کچھ چیز نہیں۔مجھ کو ہزا رہا ایسے الہام اور خوابیں آتی ہیں جو پوری ہو جاتی ہیں۔غرض اس شخص نے محض تو ہین اور تحقیر اور دل آزاری کے ارادہ سے جو کچھ اپنے خط میں لکھا ہے اور جس طرح اپنی ناپاک بد گوئی کو انتہاء تک پہنچا دیا ہے ان تمام تہمتوں اور گالیوں اور عیب گیریوں کے لکھنے کے لئے اس اشتہار میں گنجائش نہیں۔علاوہ اس کے میری تحقیر کی غرض سے جھوٹ بھی پیٹ بھر کے بولا ہے مگر مجھے ایسے مفتری اور بدگو لوگوں کی کچھ پروا نہیں۔کیوں کہ اگر جیسا کہ مجھے اس نے دغا باز حرام خور مکار فریبی اور جھوٹ بولنے والا قرار دیا ہے اور طریق اسلام اور دیانت اور پیروی آنحضرت ا سے باہر مجھے کرنا چاہا ہے اور میرے وجود کو محض فضول اور اسلام کے لئے مضر ٹھہرایا ہے۔بلکہ مجھے محض شکم پرور اور دشمن اسلام قرار دیا ہے۔اگر یہ باتیں سچ ہیں تو میں اس کیڑے سے بھی بد تر ہوں جو نجاست سے پیدا ہوتا اور نجاست میں ہی مرتا ہے۔لیکن اگر یہ باتیں خلاف واقعہ ہیں تو میں امید نہیں رکھتا کہ خدا ایسے شخص کو اس دنیا میں بغیر مواخذہ کے چھوڑے گا جو مرید ہو کر اور پھر مرتد ہو کر اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو ذلیل سے ذلیل زندگی بسر کرنے والے جیسے چوہڑے اور چہار جو شکم پرور کہلاتے ہیں اور مردار کھانے سے بھی عار نہیں رکھتے ان کی مانند مجھے بھی محض شکم پرست اور بندہ نفس اور حرام خور قرار