تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 453 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 453

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۵۰ انقلاب ایران کے متعلق پیش گوئی قائم کر دی اور کونسل میں کچھ نشستیں بھی ان کے لئے بڑھا دیں جس سے مسلمانوں کی سیاسی پوزیشن زیادہ مضبوط ہو گئی۔چشمه مسیحی " کی تصنیف و اشاعت " بانس بریلی کے ایک ناواقف مسلمان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں اس نے عیسائی پادری کی کتاب "ینابیع الاسلام" سے متاثر ہو کر اسلام پر اپنے شک کا اظہار کیا تھا۔حضرت اقدس نے اس خط کے جواب میں ۹ / مارچ ۱۹۰۶ ء کو "چشمہ مسیحی " کے نام سے ایک لطیف تصنیف شائع فرمائی جس میں ” ینابیع الاسلام" کے وساوس کا مسکت جواب دیا اور لکھا۔میں سخت متعجب ہوں کہ آپ ایسے شخص کی تحریروں سے کیوں متاثر ہوئے۔یہ لوگ ان ساحروں سے بڑھ کر ہیں جنہوں نے موسیٰ نبی کے سامنے رسیوں کے سانپ بنا کر دکھا دئے تھے مگر چونکہ موسیٰ خدا کا نبی تھا اس لئے اس کا عصا ان تمام سانپوں کو نکل گیا۔اسی طرح قرآن شریف خدا تعالیٰ کا عصا ہے وہ دن بدن رسیوں کے سانپوں کو نکلتا جاتا ہے اور وہ دن آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ ان رسیوں کے سانپوں کا نام و نشان نہیں رہے گا۔صاحب ینابیع الاسلام نے اگر یہ کوشش کی ہے کہ قرآن شریف فلاں فلاں قصوں یا کتابوں سے بنایا گیا ہے یہ کو شش اس کی اس کوشش کے ہزارم حصہ پر بھی نہیں جو ایک فاضل یہودی نے انجیل دریافت کرنے کے لئے کی ہے۔اس فاضل نے اپنے خیال میں اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ انجیل کی اخلاقی تعلیم یہودیوں کی کتاب طالمود اور بعض اور چند بنی اسرائیل کی کتابوں سے لی گئی ہے۔اور یہ چوری اس قدر صریح طور پر عمل میں آئی ہے کہ عبارتوں کی عبارتیں بینہ نقل کر دی گئی ہیں اور اس فاضل نے دکھلا دیا ہے کہ در حقیقت انجیل مجموعہ مال مسروقہ ہے۔در حقیقت اس نے حد کر دی اور خاص کر پہاڑی تعلیم کو جس پر عیسائیوں کو بہت کچھ ناز ہے طالمود سے اخذ کرنا لفظ بلفظ ثابت کر دیا ہے اور دکھلا دیا ہے کہ یہ ظالموں کی عبارتیں اور فقرے ہیں اور ایسا ہی سری کتابوں سے وہ مسروقہ عبارتیں نقل کر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔" کتاب کے خاتمہ میں حضور نے نجات حقیقی کے بیان میں ایک مفصل نوٹ لکھا جس سے اسلام کی رو " فضیلت پر نہایت عمدہ پیرایہ میں روشنی پڑتی ہے۔حضور نے بالاخر مسلمانوں کو توجہ دلائی۔ہمارے نبی ﷺ اور ہمارے سید و مولی ( اس پر ہزار سلام) اپنے افاضہ کی رو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں کیوں کہ گزشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آکر ختم ہو گیا اور اب وہ قومیں اور وہ مذہب مردہ ہیں۔کوئی ان میں زندگی نہیں مگر آنحضرت ا کا روحانی فیضان قیامت تک جاری