تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 450 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 450

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۴۷ انقلاب ایران کے تعلق پیش گوئی چھوڑ کر خود باغیوں سے مل گئی اور بادشاہ کو اپنے حرم سمیت ۱۵ / جولائی ۱۹۰۹ء کو روسی سفارت گاہ میں پناہ گزین ہونا پڑا۔اس طرح اڑھائی سال کے بعد حضرت مسیح موعود کا الهام " تزلزل در ایوان کسری فتار نہایت واضح طور پر پورا ہو گیا۔مرزا محمد علی نے معزول ہونے کے بعد اپنا تخت دوبارہ حاصل مرز امحمد علی کا حملہ اور نا کامی کرنے کی کوششیں جاری رکھیں اور بالا خری۱۷ جون 1911ء کو بحیرہ کیسپین کے کنارے واقع شہر GUMESH TEPE) پر اترا۔عین اس وقت اس کے بھائی سالار الدولہ نے بھی یکایک کردستان میں بغاوت کے شعلے بلند کر دئے اور دونوں نے دو اطرافی سے دار الخلافہ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا مگر جلد ہی دونوں کی فوجیں پسپا ہو گئیں۔حضرت سید محمد اسحق صاحب کی شادی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۴ فروری ۱۹۰۶ء کو رویا میں دیکھا کہ سید محمد الحق صاحب (خلف الرشید حضرت میر ناصر نواب صاحب اور صالحہ خاتون صاحبہ (بنت صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب) کے نکاح کی تیاری ہو رہی ہے۔اسی قسم کی رؤیا حضرت ام المومنین کو بھی ہوئی حالانکہ قبل ازیں اس تعلق میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس رویا کی بناء پر صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب کو تحریک فرمائی اور دوسرے ہی دن (۵/ فروری) کو نکاح کی تقریب عمل میں آگئی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے نماز ظہر و عصر کے جمع کرنے کے بعد مسجد اقصیٰ میں ایک خاص جوش کے ساتھ خطبہ نکاح پڑھا۔حضرت اقدس بھی اس وقت رونق افروز تھے۔یہ موقعہ جماعت کے لئے دوہری خوشی کا تھا کیوں کہ اس دن عید الاضحیٰ بھی تھی اور کپورتھلہ لاہور ، امر تبر، سیالکوٹ، رعیہ ضلع سیالکوٹ، بہبو والی ضلع ہوشیار پور اور دوسرے مقامات سے کئی احباب قادیان میں حاضر تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اپنے ماموں کی شادی پر فی البدیہ ایک دعائیہ نظم بھی کی۔حضرت صالحہ خاتون صاحبہ کے بطن سے یہ اولاد ہوئی۔اولاد FA سیده نصیرہ بیگم صاحبہ ۲۴- سیده سیدہ بیگم صاحبہ ۳۴۔سیده بشری بیگم صاحبہ ۴۔سید داؤد احمد صاحب ۵- سید مسعود احمد صاحب ۶۔سید محمود احمد صاحب ے۔سیدہ آنسہ بیگم صاحبہ۔