تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 449 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 449

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۴۶ انقلاب ایران کے متعلق پیش گوئی ماموریت کا پچیسواں سال انقلاب ایران سے متعلق پیش گوئی +1904 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ۱۵ / جنوری ۱۹۰۶ء کو الہام نازل ہوا۔" تزلزل در ایوان کسری متاد " یعنی شاه ایران کے محل میں تزلزل پڑ گیا۔جب یہ الہام ہوا شاہ ایران مظفرالدین شاہ (۱۸۵۳ - ۱۹۰۷ء) کی حالت بالکل محفوظ تھی کیوں کہ وہ ۱۹۰۵ء میں عوامی مطالبات قبول کر کے پارلیمنٹ کے قیام کا اعلان کر چکے تھے اور ایران بھر میں خوشیاں منائی جارہی تھیں کہ شاہ نے کسی قسم کی خون ریزی کے بغیر ملک کو حقوق نیابت عطا کر دئے ہیں۔باقی دنیا بھی اس نئے تجربے پر جو جاپان کو چھوڑ کر باقی ایشیائی ملکوں کے لئے بالکل نیا تھا۔شوق و امید کی نظریں لگائے بیٹھی تھی۔ایران اپنی نئی آزادی پر اور شاہ مظفر الدین اپنی قبولیت پر خوش ہو رہے تھے کہ اکتوبر ۱۹۰۶ ء میں قومی اسمبلی کا افتتاح ہوا۔شاہ اس کے چند ماہ بعد ۸/ جنوری ۱۹۰۷ ء کو رحلت کر گئے۔اور مرزا محمد علی تخت نشین ہوئے۔محمد علی مرزا نے تخت پر بیٹھتے ہی مجلس کے استحکام اور نیابتی حکومت کے دوام کا اعلان کیا لیکن چند دن بعد ہی ایران میں فتنہ و فساد کے آثار نظر آنے لگے اور بادشاہ نے تہران چھوڑنے کا ارادہ کر لیا۔اس تغیر مکانی کے وقت بادشاہ کی محافظ فوج اور قوم پرستوں کے درمیان اختلاف ہو گیا جس پر بادشاہ نے پارلیمنٹ موقوف کردی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جمہوریت کے دلدادوں نے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور خانہ جنگی شروع کردی۔بادشاہ نے خزانہ اور اسباب روس میں بھیجنا شروع کر دیا اور پورا زور لگایا کہ بغاوت فرد ہو جائے مگر یہ ملکی فساد اور بڑھتا گیا۔جنوری 1909 ء میں اصفہان کے علاقہ میں بھی بغاوت پھوٹ پڑی اور بختیاری سردار بھی قوم پرستوں کے ساتھ مل گئے اور شاہی افواج کو سخت شکست ہوئی۔بادشاہ نے مجبو ر ا حکومت نیابتی کی حفاظت کا عہد کیا اور بار بار اعلان کئے کہ وہ استبدادی حکومت کو ہرگز قائم نہیں کرے گا مگر خدا کے وعدے کب مل سکتے تھے ایوان کسرئی میں گھبراہٹ بڑھتی گئی حتی کہ بادشاہ کی محافظ فوج بھی بادشاہ کو