تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 446
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۴۳ قرب وصال سے متعلق الہامات ریق حضرت عمر فاروق حضرت عثمان غنی ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت فاطمتہ الزہرا حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہ السلام سے بے نظیر محبت و عقیدت تھی اور آپ ان کے بارے میں خفیف کی بے حرمتی بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ایک دفعہ کسی نے حضور سے پوچھا کہ کیوں نہ ہم آپ کو مدارج میں شیخین سے افضل سمجھا کریں۔اس کے جواب میں حضور نے چھ گھنٹے تک ایک پر جلال تقریر فرمائی اور بتایا کہ " میرے لئے یہ کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں (صحابہ) کا مداح اور خاک پا ہوں جو جزئی فضیلت خدا تعالٰی نے انہیں بخشی ہے وہ قیامت تک کوئی اور شخص پا نہیں سکتا۔کب دوباره محمد رسول الله و دنیا میں پیدا ہوں اور پھر کسی کو ایسی خدمت کا موقعہ ملے جو جناب نتیجھیں علیهم السلام کو ملا۔" اسی طرح پنج تن پاک کے متعلق تو آپ کا مشہور شعر ہے۔جان و دلم فدائے جمال محمد " است حاکم شار کو چند آل محمد " است یعنی میرے جان و دل محمد رسول اللہ ﷺ کے حسن و جمال پر فدا ہیں اور میری خاک کو چنہ آل محمد پر نثار !! ای الفت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے حضور نے ۸/ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو ” تبلیغ الحق" کے عنوان سے ایک مفصل اشتہار دیا جس میں اس نام نہاد مرید کی اس حرکت پر انتہائی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔" مجھے یہ امید نہیں کہ میری جماعت کے کسی راست باز کے منہ سے ایسے خبیث کلمے نکلے ہوں مگر ساتھ اس کے دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ چونکہ اکثر شیعہ نے اپنے ورد تبرہ اور لعن و طعن میں مجھے بھی شریک کر لیا ہے اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ نادان بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب میں سفیہمانہ بات کہہ دی ہو۔۔۔بہر حال میں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید ایک ناپاک طبع دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے وہ معنی اس میں موجود نہ تھے۔۔۔بد نصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں ؟ دنیا کی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا۔مگر حسین نے طاہر مطہر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالٰی اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے۔اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیارہ