تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 432
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۲۹ مفرد یلی لدھیانہ اور امرتسر میرے انکار میں جلدی نہ کرو ورنہ مرنے کے بعد کیا جواب دو گے؟ یقین یا درکھو خدا سر پر ہے اور وہ صادق کو صادق ٹھہرا تا اور کاذب کو کا ذب۔" حضور کے لیکچر کے بعد مولوی عبد الصمد پٹیالوی نے ایک نظم حضور کی تصدیق میں پڑھی۔ازاں بعد مصری شاہ صاحب ساکن نواں شہر ضلع جالندھرنے اپنا یہ رویا حلفاً بیان کیا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے دہن مبارک سے حضرت مسیح موعود کے مدارج کو سنا اور تصدیق فرمائی تھی۔12 امرتسر میں قیام اور لیکچر حضرت اقدس ۸/ نومبر کی صبح کو لدھیانہ سے روانہ ہوئے اور امرتسر تشریف لائے جہاں حضور نے دو روز تک اس مکان میں قیام فرمایا جہاں ۱۸۹۳ء کے مباحثہ جنگ مقدس کے دوران ٹھہرے تھے۔9 نومبر کی صبح امر تسر میں بھی حضور کی ایک تقریر ہونا قرار پائی۔جماعت امر تسر نے اس لیکچر کے لئے اشتہار بھی دیا کہ عالی جناب حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے ہماری درخواست پر ایک ، پبلک وعظ اسلام کے زندہ مذہب ہونے اور اس کے انوار و برکات کے بارے میں کرنا منظور فرما لیا ہے۔چونکہ یہ جلسہ محض تبلیغ حق کی خاطر ہو گا اور اس سے کوئی غرض مباحثہ یا مناظرہ نہیں ہے اس لئے کسی شخص کو اس میں بولنے کی اجازت نہ ہو گی۔لیکچر کے لئے رائے کنھیا لال صاحب وکیل کا لیکچر ہال لیا گیا تھا۔۸ بجے کے بعد حضور نے تقریر شروع فرمائی پہلے یہ بیان فرمایا کہ قریباً چودہ سال پہلے مجھے پر کفر کا فتوی دیا گیا اور مولوی عبدالحق غزنوی نے میرے ساتھ مباہلہ کیا جس کے بعد خدا تعالٰی نے میری بہت مدد فرمائی۔تین لاکھ سے زیادہ آج میرے مرید ہیں اور کثرت سے مخلصین میرے ساتھ ہیں۔مخالفوں کی زبر دست کوششوں اور منصوبوں کے باوجود خدا تعالیٰ نے مجھے کامیاب کیا۔غرض پون گھنٹہ کے قریب حضور نے تقریر فرمائی۔اس کے بعد حضور نے اسلام کی خوبیوں کا ذکر شروع کرنا چاہا تو مخالفین نے (جون میں غزنوی گروہ اور مولوی شاء اللہ صاحب کی پارٹی کے لوگ شامل تھے اور جو پہلے سے منصوبہ کر کے آئے تھے ) ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔بعض نے تالیاں بجائیں ، بیٹیاں ماریں اور نخش گالیاں دینا شروع کر دیں۔امرتسر کے رؤساء نے کھڑے ہو کر بار بار ان کو سمجھایا مگر کسی نے ایک نہ سنی اور اس قدر شور برپا کیا کہ لیکچر بند کرنا پڑا۔حضور گاڑی میں سوار ہوئے تو ہر طرف سے پتھر اور انہیں برسانا شروع کر دیں۔عین سنگ باری کے دوران میں ایک آدمی نے زور سے السلام علیکم کہا۔حضور نے فرمایا وعلیکم السلام۔اس نے کہا میں نے وہ سلام پہنچایا ہے جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب مہدی آئے تو اس کو میرا سلام پہنچانا۔