تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 433
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۳۰ سفرد علی لدھیانہ اور امرتسر حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا الحمد اللہ کہ رسول کریم کی پیش گوئی پوری ہو گئی۔پتھر بھی قوم نے بر سائے اور السلام علیکم بھی پہنچ گیا۔حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب کا چشم دید بیان حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب کا بیان ہے کہ اہل امر تسر کچھ حاصل نہ کر سکے۔لوگ لیکچر سنے کے لئے آئے۔اپنے ساتھ اینٹیں ، پتھر اور ٹوٹے ہوئے جوتے لائے۔اور بڑے بڑے مولویوں کے سکھانے پر لوگ شور کرتے رہے۔چونکہ حضور علیہ السلام سفر میں تھے اس واسطے روزہ نہیں رکھا تھا۔ابھی گھنٹہ بھر لیکچر نہ ہو ا تھا کہ مفتی فضل الرحمن صاحب نے ایک چائے کی پیالی پیش کی۔جوں ہی حضور علیہ السلام نے اسے اٹھایا اور گھونٹ پیا تمام لوگوں نے شور ڈال دیا۔بعض رئیسوں نے کہا کہ ہمارے شہر والواد یکھو تم کیا نمونہ دکھلا رہے ہو یہ بہتر نہیں۔مگر کون سنتا تھا اس طرح شور پڑ تا رہا۔آخر حضور علیہ السلام اٹھ کر ایک راستہ سے تشریف لے گئے اور کہلا بھیجا اب ہم ان کو کوئی لیکچر نہ سنائیں گے اس لئے تمام لوگ اس مکان سے نکال دئے گئے۔تھوڑی دیر بعد ایک گاڑی لائی گئی تاکہ حضور علیہ السلام اپنے ڈیرہ کو تشریف لے جائیں۔لوگ دکانوں پر چڑھے ہوئے تھے سب کے ہاتھ میں اینٹ پتھر اور پرانے جوتے تھے۔جوں ہی حضور علیہ السلام بند گاڑی میں سوار ہوئے گاڑی پر پتھروں " اینٹوں جوتوں کی بوچھاڑ شروع ہوئی۔گاڑی نکل گئی اور جماعت احمدیہ کے تمام آدمی پیچھے رہے۔راستہ میں بڑے سخت حملے ہوئے۔چنانچہ ایک شخص نے لاٹھی سے بڑے زور سے گاڑی پر حملہ کیا۔بابو غلام محمد صاحب ٹائم کیپر لاہوری جو کہ گاڑی کے پائد ان پر کھڑے تھے فورا آگے آگئے۔ان کو کسی قدر چوٹ لگی۔مولوی محمد علی صاحب اپنا سونٹا لئے ہوئے پیچھے بھاگ رہے تھے لوگوں نے یہ سمجھا کہ کوئی مخالف مرزا صاحب پر حملہ کرنے کے لئے لاٹھی لے کر بھاگ رہا ہے اس لئے وہ بھی بچ گئے ورنہ نہ معلوم کیا ہو تا کیوں کہ وہ اکیلے تھے۔تمام مخالف دکانوں پر چڑھے ہوئے اینٹیں پتھر برسا رہے تھے اور جہاں سے گزرتے تھے وہ سب گاڑی کے پیچھے ہو لیتے تھے۔حضرت میاں محمود احمد صاحب (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے تھے کہ ہم گاڑی کی کھڑکی بند کرتے تھے ادھر اس پر پتھر پڑتا تھا اور پھر کھل جاتی تھی۔الغرض گاڑی والا اینٹ کھاتا ہوا گاڑی کو بھگا کر لے گیا۔شیخ رحمت اللہ صاحب کو بھی ایک دو ٹوٹی ہوئی جوتیاں لگیں۔حکیم محمد حسین مرہم عیسی کے لڑکے کے سر پر بھی اینٹ لگی مگر یہ سب خفیف تھیں حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے ناخن پر بھی ضرب آئی تھی مگر یہ سب ضر ہیں کچھ نہ تھیں۔۔خیر یہ ایک سنت باقی تھی وہ محمد اللہ پوری ہوئی اور کسی کو ضرب نہ آئی۔لیکچر حضور علیہ السلام نے یہاں سے شروع فرمایا تھا۔میں خدا تعالیٰ کا بڑا شکر کرتا ہوں۔میں یہاں