تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 431
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۲۸ مفرود علی لدھیانہ اور امرتسر دہلی میں حضور کا کوئی پبلک لیکچر نہیں ہوا۔ہاں عام تقریر میں دیلی کے دروازے بند رہے ضرور ہوئیں۔ایک درجن کے قریب بیعتیں بھی ہو ئیں۔بھائی عبدالرحیم صاحب کا بیان ہے کہ ایک شخص بیعت کے لئے آیا اور اس نے عرض کی کہ حضور یہاں بیعت کرنا اپنی بیوی کو طلاق دینا ہے اس لئے بیعت سے پہلے گھر جا کر اپنی بیوی سے فیصلہ کرلوں۔وہ گھر گیا اور اس نے اپنی بیوی کے پاس ذکر کیا۔اس نے کہا میں بھی تمہارے ساتھ بیعت کرلوں گی۔اس طرح ہر دو نے بیعت کی۔دہلی میں احباب کے اصرار پر حضرت حکیم الامت نور الدین صاحب کے لیکچر کی تجویز ہوئی۔۳/ نومبر کو اس کی اجازت کے لئے کوشش کی گئی مگر معلوم ہوا کہ کسی وجہ سے اتوار تک لیکچر نہیں ہو سکتا۔الغرض دہلی والوں نے اس موقع سے کوئی خاص فائدہ نہ اٹھایا اور جیسا کہ حضور کو قبل از وقت بتا دیا گیا تھا دہلی کے دروازے مقفل ہی رہے۔حضور ۴/ نومبر ۱۹۰۵ء کی شام کو دہلی سے روانہ ہو کر ۵ / نومبر ۱۹۰۵ء کو ا ابجے کے قریب واپسی لدھیانہ پہنچے۔لدھیانہ میں قیام اور لیکچر دہلی کے بر عکس لدھیانہ میں حضور کی زیارت کے لئے اسٹیشن پر استقبال کرنے والے ہزاروں لوگ ہر طبقہ ہر عمر اور ہر مذاق کے موجود تھے۔چنانچہ ایک مقامی اخبار نے لکھا کہ ایک میلہ لگا ہوا تھا اور پولیس والے بھی عاجز آگئے۔حضور انور ایک بڑی کو ٹھی میں (جو سڑک کے کنارے واقع تھی) مقیم ہوئے۔یہاں بھی لوگوں کا ہر وقت تانتا بندھا رہتا تھا۔گردو نواح کے اضلاع سے بہت سے احمدی جمع ہو گئے۔جماعت لدھیانہ نے مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔مخالفین کی طرف سے سب و شتم سے بھرے ہوئے اشتہار شائع ہوئے جن کا جواب ایڈیٹا لحکم نے بذریعہ اشتہار دیا۔اسی روز (۵/ نومبر کی شام کو یہ تجویز ہوئی کہ حضرت اقدس کا ایک پبلک لیکچر ہو۔راتوں رات جماعت احمدیہ لدھیانہ نے پوری مستعدی اور ہوشیاری کے ساتھ اشتہار چھپوا کر چسپاں کروائے اور علی الصبح تقسیم بھی کر دیا۔وقت مقررہ پر ہزاروں لوگ متصل مکان آریہ سکول محاذ کمیٹی باغ کے احاطہ میں جہاں لیکچر قرار پایا تھا جمع ہو گئے۔حضرت اقدس نے ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک اسلام کی خوبیوں اور سلسلہ احمد یہ حقہ کی صداقت پر ایک پر معارف تقریر فرمائی۔حضور کی تقریر کے آخری الفاظ یہ تھے۔”میرے نشانات تھوڑے نہیں۔ایک لاکھ سے زیادہ انسان میرے نشانوں پر گواہ ہیں اور زندہ ہیں۔ro