تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 30 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 30

تاریخ احمدیت جلد ۲ ٣٠ مولوی محمد حسین صاحب بثانوی کی شورش اور ناکامی یعنی جن حدیثوں میں مہدی کی علامات دی گئی ہیں ان کے غیر وضعی ہونے میں شبہ ہے۔حضرت اقدس نے جب مولوی محمد حسین صاحب کی محض دنیاوی فائدے کے لئے یہ غیر مومنانہ کارروائی دیکھی تو ۲۹ / دسمبر ۱۸۹۸ء کو علماء ہند سے فتوی کی غرض سے مندرجہ ذیل استفتاء لکھا:۔کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین کہ ایک شخص مہدی موعود کے آنے سے جو آخری زمانہ میں آئے گا اور بطور ظاہر و باطن خلیفہ برحق ہو گا اور بنی فاطمہ میں سے ہو گا جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے قطعاً انکار کرتا ہے اور اس جمہوری عقیدہ کو جس پر تمام اہلسنت دلی یقین رکھتے ہیں سراسر لغو اور بے ہودہ سمجھتا ہے اور ایسا عقیدہ رکھنا ایک قسم کی ضلالت اور الحاد خیال کرتا ہے۔کیا ہم اس کو اہل سنت میں سے اور راہ راست پر سمجھ سکتے ہیں یا وہ کذاب اور اجماع کا چھوڑنے والا اور ملحد اور دجال ہے۔بینوا توجروا۔" حضور انور نے یہ استفتاء لکھ کر اپنے ایک مخلص مرید ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب گوڑیانی کو دیا کہ وہ علماء سے اس کا جواب لا ئیں چنانچہ وہ بڑے بڑے علماء مثلاً مولوی عبدالحق صاحب غزنوی مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری ، مولوی غلام محمد صاحب بگوی امام شاہی مسجد مولوی محمد عبد اللہ صاحب ٹونکی، مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب شیخ الکل و ہلوی ، مولوی فتح محمد صاحب مدرس مدرسه فتح پوری دہلی۔مولوی خواجہ عبد الرزاق صاحب بلند شہر اور مولوی عبد العزیز صاحب لدھیانوی کے پاس پہنچے۔سبھی نے اس استفتاء پر بالا تفاق یہ لکھا کہ یہ کافر مبتدع ضال مضل، مفتری خارج از اہلسنت والجماعت اور کذاب و دجال ہے۔" چنانچہ ذیل میں ہیں علماء کے مفصل فتاوی درج کئے جاتے ہیں :۔"جو شخص عقیدہ ثابتہ مسلم اہلسنت و جماعت سے خلاف کرے تو ہ صریح اور بیشک اس آیت کریمہ کے وعید کا مستحق ہے۔قَالَ عَزَّ مِنْ قَبْلِ وَ مَنْ يَشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرً ا قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قَيْدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةٌ الإسلامِ مِنْ عُنْقِهِ - رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْوَدَاوُدَ - قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِتَّبِعُو السَّوَادَ الأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَدَّ شُدَّ فِي النَّارِ رَوَاةَ اِبْنُ مَاجَةَ - قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ مَتِي عَلى ضَلَالَةٍ وَيَدُ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةَ وَ مَنْ شَدَّ شُدَّ فِي النَّارِ رَوَاهُ التَرْمِنِی۔اور جمہور اہل سنت اس پر متفق ہیں کہ مہدی علیہ السلام اخیر زمانہ میں تشریف لاویں گے وہ بنی فاطمہ میں سے ہو گا اور اس کے ہاتھ سے دین غالب ہو گا اور له النساء : ١١٩