تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 414
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد میں خاص ملکہ حاصل تھا۔اردو فارسی، عربی اور پشتو کے ماہر اور تحریر و تقریر میں یکتائے روزگار تھے۔مناظروں میں ہمیشہ فریق مخالف آپ کے دلائل سے ساکت و لاجواب ہو جاتے تھے۔علم حدیث میں آپ کے بہت شاگرد ہوئے جن میں حافظ عبد المنان صاحب وزیر آبادی مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی، مولوی محمد عرفان صاحب ڈونگا گلی مری، مولوی حشمت علی صاحب را جوردی، مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی مولوی عبد الرحمن صاحب کھیوال، مولوی محمد قاری صاحب علمی بہت ممتاز ہیں۔اللہ تعالی نے مئوخر الذکر تین اصحاب کو قبول احمدیت کی سعادت بھی بخشی۔متوکل انسان تھے اور بہت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔مرض الموت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی طرح آپ کسی بھی بیماری میں جلا نہیں ہوئے بلکہ مختصری علالت سے اچانک وفات پائی۔حضرت مولوی صاحب نے T جب یہ الہام نا کہ دو شہتیر ٹوٹ گئے " تو انہوں نے ایک شہتیر مولوی عبد الکریم صاحب کو اور دو سرا شہتیر اپنے آپ کو سمجھا۔آپ رمضان شریف کو ۲۰ تاریخ (بمطابق ۱۹/ نومبر ۱۹۰۵ء) اعتکاف میں بیٹھے۔اعتکاف کے ایام میں قرآن شریف کا ان کو پہلے سے بھی زیادہ شغف ہو گیا اور دن رات قرآن شریف پڑھتے رہتے تھے۔اعتکاف میں یہ الہام ہوا۔انا کفینَاكَ الْمُسْتَهْزِنِينَ۔اور بعد اس کے ایک اور الہام ہوا جس کا خلاصہ یہ تھا امام الوقت تو ایک طرف رہے اب تو ان کے مریدوں کو بھی الہام ہونے لگے۔پھر ہم اس بچے سلسلہ کی تائید کیوں نہ کریں؟ (۲۸/ نومبر کو) اعتکاف سے فارغ ہو کر گھر تشریف لائے۔کھانا کھانے کے بعد فرمایا مجھے سردی کی لگی ہے اور رات کو سخت بخار ہو گیا۔یکم دسمبر بروز جمعہ آپ کی طبیعت کچھ سنبھل گئی۔مسجد میں آئے اور بیٹھ کر جمعہ پڑھا۔۲/ دسمبر کی رات کو پھر بخار ہو گیا۔مگر آپ آدھی رات تک مغرب کی طرف منہ کر کے زبانی قرآن شریف پڑھتے رہے۔۲ بجے کے قریب آپ سو رہے اور تین بجے اٹھے۔صبح کی نماز پڑھی اور پھر فرمانے لگے کہ دونوں دروازے کھولو کہ مجھے انتظار ہے۔پوچھا گیا کس کی؟ جواب نہ دیا۔اور پھر دو دفعہ پاخانہ کی حاجت ہوئی اور پھر آپ چارپائی پر لیٹ گئے اور آنکھیں کھولیں۔کلمہ شریف پڑھا اور دو منٹ کے اندر آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ساڑھے چار بجے شام آپ کا جنازہ پڑھا گیا جس میں ۱۳۰۰ احباب نے شرکت کی اور آپ کو جہلم کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔12 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی برہان الدین صاحب کو ۱۹۰۳ء میں ارشاد حضرت مولوی برہان الدین صاحب کا مقام فرمایا " آپ اپنی پہلی حالت کو یاد کریں جب کہ