تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 413
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۱۰ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد وہاں پہنچ گئے۔وہاں حضرت اقدس اپنے خدام کے ہمراہ کہیں جا رہے تھے کہ کسی عورت نے کھڑکی سے حضور پر راکھ ڈالی۔حضور گزر گئے مگر راکھ مولوی صاحب کے سر پر پڑی۔آپ پر محویت طاری ہو گئی اور نہایت خوشی سے فرمانے لگے ”پا اے مائے پا" یعنی بڑھیا اور راکھ ڈالو۔حضرت اقدس جب سیالکوٹ سے واپس آئے اور آپ حضور کو الوداع کہنے کے بعد پیچھے رہ گئے تو بعض شریروں نے آپ کی بے عزتی کی بلکہ پکڑ کر منہ میں گوہر تک ٹھونس دیا لیکن آپ نے نہایت بشاشت کے ساتھ فرمایا " او برہانا ایمہ نعمتاں کتھوں" یعنی اے برہان الدین یہ نعمتیں روز روز کہاں میسر آتی ہیں۔ایک مرتبہ قادیان دار الامان میں حضرت اقدس شہ نشیں پر جلوہ افروز تھے اور حضور کے کلمات طیبات کا سلسلہ جاری تھا اور حضور حقایق و معارف بیان فرما رہے تھے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب ، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور دوسرے بزرگ بھی مجلس میں بیٹھے تھے کہ مولوی صاحب نے زارو قطار رونا شروع کر دیا اور بے اختیاری کی وجہ سے ہچکی بندھ گئی۔حضرت اقدس نے پوچھا کیا بات ہے آپ کیوں روتے ہیں۔لیکن حضور جتنا پوچھتے آپ اتنا ہی زور سے رونے لگ جاتے۔آخر بار بار پوچھنے اور تسلی دلانے پر مولوی صاحب نے عرض کیا حضور سب سے پہلے میں باؤلی شریف والوں کی خدمت کرتا رہا پھر مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی خدمت میں رہا۔اس کے بعد پیر صاحب کو ٹھہ شریف کے پاس گیا اور اب حضور کا خادم اور مرید بنا ہوں۔خدا تعالٰی کا مسیح آگیا۔یہ خدا تعالی کا فضل ہے کہ اس نے مجھے ایمان لانے کی توفیق عطا فرما دی لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اسلام کے لئے قربان کر سکوں (حالانکہ وہ غریب ہی اس لئے ہوئے تھے کہ وہ احمد کی ہو گئے تھے ) ہم سنا کرتے تھے کہ مسیح آئے گا تو خزانے لٹائے گا اور حضور نے خوب خزانے لٹائے۔اور پھر کہنے لگے کہ میں تو پھر بھی جھڈو کا جھڈو " ہی رہا۔یعنی اب تک ناکارہ کا نا کارہ ہوں۔یہ کہہ کر پھر چھینیں مار کر رونے لگے۔اس پر حضور نے نہایت شفقت اور محبت سے فرمایا " آپ گھبرائیں نہیں اور کوئی فکر نہ کریں آپ نے جہاں پہنچنا تھا آپ پہنچ گئے ہیں اب رونے دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔" مولوی صاحب جب بھی قادیان آتے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس خواہش کا ضرور اظہار فرماتے کہ آپ قادیان میں ہی آجائیں مگر مولوی صاحب عرض کرتے کہ حضور میں نالائق ہوں اس قابل تو نہیں کہ حضور کی خدمت کر سکوں الٹا اپنا بوجھ آپ پر ڈالوں۔" مولوی صاحب قادیان سے واپسی پر ہمیشہ امر تسر لا ہو ر وغیرہ احمدی جماعتوں کا دورہ کرتے اور اپنے دوستوں کو تبلیغ کرتے ہوئے جہلم آتے تھے۔حضرت مولوی صاحب تمام دینی علوم تغییر، حدیث، فقہ نحو غیرہ کے متجر عالم تھے۔طب یونانی