تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 410 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 410

تاریخ احمدیت جلد ؟ ۴۰۷ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد پانی پینا اور ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کی محبت۔آپ ٹھنڈا پانی بہت پسند کرتے تھے اور اسے بڑے شوق سے پیتے تھے اور پیتے وقت غٹ غٹ کی ایسی آواز آیا کرتی تھی کہ گویا اللہ تعالٰی نے ان کے لئے جنت کی نعمتوں کو جمع کر کے بھیج دیا ہے۔اس زمانہ میں اس مسجد اقصیٰ کے کنویں کا پانی بہت مشہور تھا۔اب تو معلوم نہیں لوگ کیوں اس کا نام نہیں لیتے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ کہتے بھئی کوئی ثواب کماؤ اور پانی لاؤ۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود موجود ہوتے تو اور بات تھی وگرنہ آپ سیڑھیوں پر آکر انتظار میں کھڑے ہو جاتے اور پھر لوٹا لے کر منہ سے لگالیتے۔دوسرے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں بیٹھے ہوتے تو یوں معلوم ہوتا کہ آپ کی آنکھیں حضور کے جسم میں سے کوئی چیز لے کر کھارہی ہیں اس وقت گویا آپ کے چہرے پر بشاشت اور شگفتگی کا ایک باغ برا رہا ہو تا تھا اور آپ کے چہرہ کا ذرہ ذرہ مسرت کی ہر پھینک رہا ہو تا تھا جس طرح مسکرا مسکرا کر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سنتے اور جس طرح پہلو بدل بدل کر داد دیتے۔دہ قابل دید نظارہ ہو تا۔اگر اس کا تھوڑا سا رنگ میں نے کسی اور میں دیکھا تو وہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم تھے۔غرض مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خاص عشق تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو بھی آپ سے ویسی ہی محبت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ مغرب کی نماز کے بعد ہمیشہ بیٹھ کر باتیں کرتے لیکن مولوی صاحب کی وفات کے بعد آپ نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔کسی نے عرض کیا کہ حضور اب بیٹھتے نہیں تو فرمایا کہ مولوی عبد الکریم صاحب کی جگہ کو خالی دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔" حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کا بیان ہے۔"امیر حبیب اللہ خان صاحب نے کابل میں ایک دار ترجمہ قائم کیا اور اس میں قابل اور ماہر فن لوگوں کے جمع کرنے کی کوشش کی۔حضرت مخدوم الملت فارسی - عربی۔انگریزی زبانوں میں ایسے ماہر تھے کہ اہل زبان اور قادر الکلام لوگوں کی طرح ان زبانوں پر حکومت رکھتے تھے ایام الصلح کا فارسی ترجمہ مخدوم الملت کی قلم سے ہوا اور آئینہ کمالات میں جو حصہ تبلیغ ہے اس کا فارسی ترجمہ بھی حضرت مخدوم الملت نے کیا۔غرض جب یہ دار الترجمہ قائم ہوا اور ہندوستان سے لائق آدمیوں کو جمع کرنے کا کام شروع ہوا تو حضرت مخدوم الملت کو مترجم کی اسامی پیش کی گئی اور ایک بیش قرار تنخواہ معاوضہ کے طور پر پیش ہوئی۔ایسے موقعہ پر ہر شخص کی قدرتی طور پر خواہش ہو سکتی ہے کہ وہ اس عزت کی اسامی کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔دربار کابل میں اس سے رسوخ بڑھتا تھا اور ایک بیش قرار معاوضہ ملتا تھا۔کام محض علمی تھا جو خود ان کو پسند تھا مگر کیا اس تحریک نے مخدوم الملت کے دل پر کچھ بھی اثر کیا؟ ہرگز