تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 409 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 409

تاریخ احمدیت جلد ۲ Noy مدرسہ احمدیہ کی بنیاد ہوا کم خواب ہونا اپنا خاصہ فراق یار میں نینوں کو مکمل کمخواب خاصہ - مینیون ململ کو کس طرح جدائی کے پیرایہ میں ادائے کیا گیا ہے۔اکثر موسم گرما میں پچھلے پہر رات کے وقت جب آپ اپنی کو ٹھی پر اس مشہور قصیدہ کو ( مرحبا سید مکی مدنی العربی) اپنے شوق میں پڑھتے تھے۔تو محلہ والے لوگ تاثیر آواز سے جو جادو سے کم نہ تھی۔چونک پڑتے تھے۔ایک دفعہ اس شعر پر شب معراج عروج نور افلاک گذشت ب مقامی که رسیدی نرسد بیج بنی۔میرا ایک مہمان وجد کی حالت میں بے خود ہو گیا آپ کی خوش الحانی و جادو بیانی یاد کر کر بے اختیار دل سے یہ شعر نکل جاتا ہے۔اناں کہ بعد زبان سخن گفتند آیا چه شنیدند که خاموش شدند مولوی صاحب جس وقت سیالکوٹ کے مہاراجہ والے بازار کے چوک میں با آواز بلند قرآن شریف پڑھ کر وعظ کرتے تھے۔عام ہندو مسلمان عیسائی جمع ہو جاتے اور شوق سے سنتے تھے۔قرآن شریف کے عاشق دلدادہ تھے۔افسوس کہ ضعیف العمر والدین کے اکلوتے فرزند تھے۔اور جہاں تک راقم کو معلوم ہے (اگر چہ قادیان چلے جانے کے بعد پھر ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا) مرحوم لاولد تھے۔مرزا صاحب اور جماعت احمدیہ کو ان کی دائمی جدائی کا سخت صدمہ پہنچا ہے اور ان کے دوستوں اور عام مسلمانوں کو عموماً سخت قلق ہے۔مرزا صاحب کی طرف سے ہر چند دوا اور دعا کی گئی۔مگر مقدر مبدل نہیں ہو سکتا۔چوں مبدل شد اعتدال مزاج نہ عزیمت اثر کند نه علاج۔زمانہ کئی انقلاب دیکھنے کے بعد کبھی جا کے اس دل و دماغ کا دوسرا پیدا کرے گا۔اناللہ وانا الیہ راجعون سے یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے خداوند تعالی مرحوم کو مغفرت کرے اور اس کے متعلقین کو صبر جمیل بخشے۔" را قم لوہا خاں از گھر مل ضلع سیالکوٹ " (الحکم قادیان ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۹ء صفحہ 11) حضرت مصلح موعود مولانا عبد الکریم صاحب کے بے مثال عاشقانہ رنگ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مولوی عبد الکریم صاحب کو خاص عشق تھا اور ایسا عشق تھا کہ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس زمانہ کو دیکھا۔دوسرے لوگ اس کا قیاس بھی نہیں کر سکتے۔وہ ایسے وقت میں فوت ہوئے جب میری عمر ۶ ۷ اسال تھی اور جس زمانہ سے میں نے ان کی محبت کو شناخت کیا ہے۔اس وقت میری عمر ۱۲ ۱۳ سال کی ہوگی۔یعنی بچپن کی عمر تھی لیکن باوجود اس کے مجھ پر ایک ایسا گرانقش ہے کہ مولوی صاحب کی دو چیزیں مجھے کبھی نہیں بھولتیں ایک تو ان کا