تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 408
تاریخ احمدیت جلد 7 ۴۰۵ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد اخبار پنجہ فولاد لاہور میں مخدوم الملت مرحوم کی وفات پر حسب ذیل مراسلہ شائع ہوا۔مولوی عبد الکریم صاحب کی قادیان میں وفات زجام دھرتے کل من علیحا نان ہر آنکہ زاد نیا چار بلیدش شید افسوس کہ مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے 10 اکتوبر ۱۹۰۵ء کو قادیان میں داعی اجل کو لبیک کہا اور ان کے طائر روح نے ناپائیدار دنیا کو یہ شعر عرفی مرحوم کا سنا کر بعالم آخرت پرواز کیا۔ع مشتاب اے غم دنیا کہ مکردم نری یکن از دور دواعم که شتابان رفتم مولوی صاحب جو ان عمر تھے۔اور سیالکوٹ کشمیری محلہ میں آپ کا مکان بالمقابل مکان راقم کے تھا۔عہد طفولیت میں ہی عجیب قسم کے ذہین تھے۔محلہ کے لڑکوں میں کبھی کھیل وکود میں شامل نہیں ہوئے۔پہلے مرحوم سرسید کی تہذیب الاخلاق کے گرویدہ بنے رہے۔پھر مرزا صاحب کی بیعت میں داخل ہو کر ایسے معتقدا در فنافی البعیت ہوئے کہ وطن سے ہجرت کر کے وہاں ہی سکونت اختیار کرلی اور آخر مرزا صاحب کے قدموں میں ہی جان قربان کر دی۔ان کی زندگی لہو و لعب سے برکنار رہی علمی مجلس کے مشتاق تھے۔ابتداء میں شعر و سخن کا شوق رہا۔جب آپ نے پہلے پہل لاہور کو دیکھا تو لاہور کی تعریف میں ایک دلکش نظم فارسی کی لکھی۔جس میں علاوہ اور صفتوں کے یہ بھی ثابت کیا گیا کہ لاہور کا نام دو زبان سے مرکب ہے لا بزبان عربی۔ہور بزبان پنجابی۔یعنی ایسا اور نہیں ہے اس نظم کا اس وقت صرف ایک شعر راقم کو یاد ہے۔ماہر دیان بلنده لایا ہوں ول صافی ربوده اند یجور صافی آپ کا تخلص تھا۔آپ کی ایک غزل فارسی کی راقم کے پاس ہے جو کسی آئندہ پرچہ میں شائع ہوگی۔ایک دفعہ سیالکوٹ میں چند احباب کا مجمع تھا۔اور اس شعر کا تذکرہ ہو رہا تھا۔کو دن کی دوستی اک پل میں توڑی بھلا کیونکر کوئی تجھے سے کرے لے کریلے- کدو- توری سبزیات کا نام لے کر شاعر نے مضمون باندھا ہے۔مولوی صاحب مرحوم نے بھی ایک شعر سنایا ( یہ معلوم نہیں کہ ان کا اپنا شعر ہے یا کسی اور شاعر کا ہے صاف سینا دیکھ کر درزن کو میں سینا دیا کچھ تو سینے وہ لگی اور کچھ تو میں سینے لگا را تم کو بھی ایک شعر مولوی سراج الدین احمد ایڈیٹر اخبار زمیندار کا ان کے والد مرحوم کی زبان سے جو راقم کے مہربان تھے سنا ہوا) یاد تھا جس کو سن کر مولوی صاحب بہت ہی محظوظ ہوئے اور بار بار پڑھتے تھے اور داد دیتے تھے۔شعرینہ کو ریہ ہے۔