تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 407 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 407

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۰۴ درسہ احمدیہ کی بنیاد یعنی عبد الکریم کی خوبیاں کیوں کر گنی جاسکتی ہیں جس نے شجاعت کے ساتھ صراط مستقیم پر جان دی۔وہ جو دین اسلام کا حامی تھا اور جس کا نام خدا نے لیڈر رکھا تھا وہ خدائی اسرار کا عارف اور دین متین کا خزانہ تھا۔اگر چہ آسمان نیکوں کی جماعت بکثرت لاتا رہتا ہے مگر ایسا شفاف اور قیمتی موتی ماں بہت کم جتا کرتی ہے۔اے خدا اس کی قبر پر رحمت کی بارش نازل فرما اور نہایت درجہ فضل کے ساتھ اسے جنت میں داخل کر دے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ محب اور محبوب کی محبت کا پر کیف منظر عنہ کے عشق کا یہ حال تھا کہ بیماری کی عین شدت درد و اضطراب میں حضرت اقدس کی یاد میں ماہی بے آپ کی طرح تڑپتے تھے۔ان کی اہلیہ صاحبہ کا بیان ہے کہ ”جب مولوی عبد الکریم صاحب بیمار ہوئے اور ان کی تکلیف بڑھ گئی تو بعض اوقات شدت تکلیف کے وقت نیم غشی کی سی حالت میں وہ کہا کرتے تھے کہ سواری کا انتظام کرو میں حضرت صاحب سے ملنے کے لئے جاؤں گا۔گویا وہ سمجھتے تھے کہ میں کہیں باہر ہوں اور حضرت صاحب قادیان میں ہیں اور بعض اوقات کہتے تھے اور ساتھ ہی زار و قطار رو پڑتے تھے کہ دیکھو میں نے اتنے عرصہ سے حضرت کا چہرہ نہیں دیکھا تم مجھے حضرت صاحب کے پاس کیوں نہیں لے جاتے ابھی سواری منگواؤ اور مجھے لے چلو۔ایک دن جب ہوش تھی کہنے لگے جاؤ حضرت صاحب سے کہو کہ میں مر چلا ہوں مجھے صرف دور سے کھڑے ہو کر زیارت کرا جائیں اور بڑے روئے اور اصرار کے ساتھ کہا کہ ابھی جاؤ میں نیچے حضرت صاحب کے پاس آئی کہ مولوی صاحب اس طرح کہتے ہیں۔حضرت صاحب فرمانے لگے کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا میرا دل مولوی صاحب کے ملنے کو نہیں چاہتا ؟ مگر بات یہ ہے کہ میں ان کی تکلیف کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔حضرت ام المومنین نے کہا کہ جب وہ اتنی خواہش رکھتے ہیں تو آپ کھڑے کھڑے ہو آئیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا میں جاتا ہوں مگر تم دیکھ لیتا کہ ان کی تکلیف کو دیکھ کر مجھے دورہ ہو جائے گا۔خیر حضرت صاحب نے پگڑی منگا کر سر پر رکھی اور ادھر جانے لگے۔میں جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر آگے چلی گئی تاکہ مولوی صاحب کو اطلاع دوں کہ حضرت صاحب تشریف لاتے ہیں۔جب میں نے مولوی صاحب کو جاکر اطلاع دی تو انہوں نے الٹا مجھے ملامت کی کہ تم نے حضرت صاحب کو کیوں تکلیف دی؟ کیا میں نہیں جانتا کہ وہ کیوں تشریف نہیں لاتے ؟ میں نے کہا کہ آپ نے خود تو کہا تھا انہوں نے کہا وہ تو میں نے دل کا دکھڑا ر دیا تھا تم فور آ جاؤ اور حضرت صاحب سے عرض کرو کہ تکلیف نہ فرمائیں۔میں بھاگی گئی تو حضرت صاحب سیڑھیوں کے نیچے کھڑے اوپر آنے کی تیاری کر رہے تھے۔میں نے عرض کر دیا کہ حضور آپ تکلیف نہ فرمائیں۔"